تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 682 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 682

تاریخ احمدیت 682 جلد ۲۰ کنارے بسنے والے ایک مرد با خدا حضرت امام جماعت احمد بخلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالے کی مخلصانہ اور دردمندانہ دعا ئیں نجی میں اس بارانِ رحمت کے نزول کا موجب ہوئی ہیں۔مکرم ماسٹر محمد یونس خانصاحب کی صحت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا وہ خدا کے فضل سے اب صحت یاب ہیں اور جماعتی خدمات میں بڑھ چڑھ حصہ لینے والے مخلص جو ان ہیں۔فالحمد الله تعالی۔خوابوں کے ذریعہ رہنمائی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح جزائر فجی میں بھی بہت سے ایسے مخلص احمدی دوست موجود ہیں جن پر اور قبولت احمدیت اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کے نتیجہ میں بذریعہ خواب احمدیت کی صداقت کا انکشاف فرما کر انہیں جماعت احمد یہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔اس سلسلہ میں بطور نمونہ صرف ایک خواب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔مارو کے مکرم محمد بشیر خاں صاحب تحریر کرتے ہیں کہ۔جزائر جی میں احمدیت کے چرچا اور احمدیہ مشن کے قیام سے پہلے وہاں عیسائیت کا بہت زور تھا۔اور حضرت عیسیکی آسمان سے آمد کے عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح منتظر تھے جس کی وجہ سے یہ خیال میرے دل میں گھر کرنے لگا۔کہ عیسائیت کچی ہے اور عیسائی ہو جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔میں ابھی عیسائی نہیں ہوا تھا بلکہ سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے خواب میں ایک نہایت بزرگ انسان ملے۔انہوں نے بڑے جلال سے مجھے فرمایا۔محمد بشیر ہوش کرو۔جس شخص کی تمہیں تلاش ہے وہ عیسی یا مسیح ناصرئی نہیں ہے بلکہ وہ کوئی اور ہے اور دنیا میں ظاہر ہو چکا ہے۔اس وقت جزائر فجی کے پہلے مبلغ جناب شیخ عبدالواحد صاحب فاضل نجی میں آچکے تھے اور میرے والد محترم مولوی محمد قاسم صاحب بھی بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔لیکن میرا اس طرف رجحان نہیں تھا۔تا ہم مذکورہ بالا خواب دیکھنے کے بعد میرارجمان احمدیت کی مبانعجماعت کی طرف ہو گیا اور میں نے بھی اپنے والد صاحب کی طرح شرح صدر سے بیعت کر لی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی۔۔۔کی بیعت کر لینے کے بعد مجھے سلام سے ایسی محبت اور لگاؤ پیدا ہو گیا اور ایسے فہم و فراست سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا کہ میں عیسائیوں کے سامنے نہایت جرات اور یقین سے اسلام کی حقانیت اور عیسائیت کے موجودہ عقائد کا بطلان ثابت کرنے لگ گیا اور میں نے اللہ کا تہہ دل سے شکر ادا کیا کہ صداقت مجھ پر کھل گئی اور میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اور حقیقی غلاموں میں شامل ہو گیا ہوں۔“ ۵۷