تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 681 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 681

تاریخ احمدیت 681 جلد ۲۰ حضرت خلیفة المسیح الثالث جناب مولوی شیخ سجاد احمد صاحب خالد تحریر فرماتے ہیں کہ کی دعا سے بارانِ رحمت جب ۱۹۷۷ء میں خاکسار نجی پہنچا تو مجھے معلوم ہوا۔کہ اس ملک کے باشندے اس سال بارش کی بڑی شدت سے کمی محسوس کر رہے ہیں اور خشک سالی سے سخت پریشان ہیں۔ملک کے مولوی صاحبان بارش کے لئے دُعائیں کر چکے تھے۔اور ہندو پنڈت کھلے میدانوں میں آگ جلا جلا کر بارش برسانے والے دیوتاؤں سے بارش کے لئے التجا ئیں کر چکے تھے۔اس ملک کے ہندوؤں میں یہ رسم ہے کہ اگر حسب ضرورت بارش نہ ہو اور قحط سالی کا خطرہ ہو تو میدانوں میں نکل کر آگ جلاتے اور ڈھول بجا بجا کر اپنے دیوتاؤں کو بارش کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔تا ہم اس وقت ان کی سب رسمیں اور دیوتا بیکار اور بے جان ثابت ہوئے اور بارش نہ ہوئی۔جس سے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ خشک سالی تقریباً سال بھر لمبی ہو گئی تھی۔جو ملک کے لئے سخت نقصان دہ تھی۔اس دوران ایک روز قصبہ مارو میں خاکسار برادرم مکرم ماسٹر محمد یونس خانصاحب کے مکان پر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں خط لکھ رہا تھا مکرم ماسٹر یونس صاحب کو جب یہ معلوم ہوا تو کہنے لگے کہ ابھی ابھی اسی وقت حضور کی خدمت میں خصوصی طور پر لکھیں کہ سال بھر سے سارے ملک منی میں بارش کا فقدان اور خشک سالی تباہی کا موجب ہو رہی ہے اور ملک کے لوگوں کی اور ہماری دعائیں اور دیگر رسوم بھی سب بے کار ثابت ہو چکی ہیں۔حضور اس ملک کے باشندوں پر رحم فرماتے ہوئے متواتر خاص دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد اس سرزمین کو حسب ضرورت بارش سے سیراب فرمائے نیز میری طرف سے یہ بھی خاص التجا کریں کہ اپنے ایک ادنی مرید ماسٹر محمد یونس خان کیلئے دعا فرما ئیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف سے شفا عطا فرمائے۔خاکسار نے اسی وقت ان دونوں اہم امور کے لئے حضور کی خدمت میں خاص دعا کی درخواست لکھ کر روانہ کر دی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سلسلہ میں حضور کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور خط کا جواب آنے سے پہلے پہلے سارے ملک میں اتنی شدید بارشیں ہوئیں کہ ہر طرف ہر یالا اور سبزی ہی سبزی ہو گئی اور ہر شخص کی زبان پر بلکہ لوکل اخباروں میں اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ کئی سالوں کے بعد ملک میں اتنی اچھی اور وسیع پیمانے پر بارشیں ہوئی ہیں۔لیکن یہ بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ پاکستان کے دریائے چناب کے