تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 680
تاریخ <mark><mark>احمد</mark></mark>یت 680 جلد ۲۰ یہ دور ابتلا ؤں اور آزمائشوں کا دور ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ اپنے فضل سے احباب جماعت کو ایمان پر استقامت بخشے ثابت قدم رکھے۔اور اس راہ میں ہر قربانی پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے قبول کرے۔آمین <mark><mark>مرزا</mark></mark> ناصر <mark><mark>احمد</mark></mark> ۵۳ خلیفة المسیح الثالث ( ۳ / دسمبر ۱۹۷۴ء -۳۵۳اهش ) جماعت <mark><mark>احمد</mark></mark> یہ نبی نے جنوری ۱۹۷۵ء میں مسلم سن رائز“ کے نام سے ایک سہ ما ہی رسالہ جاری کیا۔اقوام متحدہ کی ایک اہم مسلمان وسط ۱۹۷۷ء میں جنوبی بحرالکاہل میں واقع COOK ISLAND میں اقوام متحدہ کی شخصیت کی طرفسے مبارک باد طرف سے متعین CENSUS ADVISER مسٹر محمد سراج الاسلام دارلحکومت صوا میں ت<mark><mark>شریف</mark></mark> لائے اور اس کیمشہور ہوٹل PACIFIC HOTEL میں قرآن مجید کا وہ انگریزی ترجمہ دیکھا جو جماعت <mark><mark>احمد</mark></mark>یہ نجی نے اشاعت قرآن کی مہم کے دوران دوسرے مقامات کے علاوہ یہاں بھی رکھوایا تھا۔وہ اس ترجمہ سے از حد متاثر ہوئے اور واپس COOK ISLAND میں آکر <mark><mark>احمد</mark></mark> یہ مشن نبی کو قرآن مجید اور اسلامی لٹریچر بھجوانے کی فرمائش کی جو انہیں ارسال کر دیا گیا۔جسے پڑھکر انہوں نے جماعت <mark><mark>احمد</mark></mark>یہ کو مبارک باد پیش کی۔چنانچہ انہوں نے مولوی دین محمد <mark><mark>صاحب</mark></mark> انچارج نجی مشن کے نام حسب ذیل مکتوب لکھا۔(ترجمہ) ” قرآن مجید کا ایک نسخہ اور دیگر اسلامی مطبوعات کو پا کر میں بہت خوش ہوا ہوں۔مجھے یہ معلوم کر کے بھی بہت خوشی ہوئی ہے کہ <mark><mark>احمد</mark></mark>یہ مشن اسلام کے حسین پیغام کی تبلیغ واشاعت کا اہم فریضہ سر انجام دینے میں مصروف ہے۔قرون اولیٰ میں مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی ہے۔اور اُن کی ناقابل تسخیر قوت اس بات میں تھی کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔مگر افسوس کہ اب مسلمان اسلام کی تبلیغ واشاعت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔اور اسی وجہ سے وہ غریب، پسماندہ، شکست خوردہ اور نا پسندیدہ عنصر ہو کر رہ گئے ہیں۔میں جماعت <mark><mark>احمد</mark></mark>یہ کو تبلیغ اسلام کی اہم خدمت کے سرانجام دینے پر مبارک باد کہتا ہوں“۔آپکا دلی دوست - محمد سراج الاسلام