تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 625
تاریخ احمدیت 625 جلد ۲۰ بھی اس استقبال کو بہت سراہا اور ان میں سے بعض نعرے بلند کرنے میں وہ احمد یوں کے ساتھ شامل بھی ہوئے۔شاہ اردن کا لیگوس میں قیام صرف سولہ گھنٹے تھا۔احمد یہ مشن کی طرف سے ایک روز قبل منعقد ہونے والی مسلم فیسٹول کمیٹی MOSLIM) (FESTIVAL COMMITTEE میں دوسری مسلمان جمعیتوں کے زعماء کو شاہ سے وفد کی صورت میں ملاقات کی تحریک کی گئی۔اسی طرح گورنمنٹ ہاؤس سے ٹیلیفون پر ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کی کوشس بھی کی گئی۔لیکن اس وقت شاہ کا پروگرام معین طور پر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اطلاع حاصل نہ ہو سکی۔لیگوس کے مقامی حاکم (OBA) مسلمان تھے۔جن کو جناب مولا نانیم سیفی صاحب رئیس تبلیغ مغربی افریقہ نے ٹیلیفون پر تحریک کی کہ وہ ملاقات کی کوشش کریں ان کی طرف سے کوشش کرنے پر صرف چار اصحاب کے لئے ملاقات کی اجازت حاصل ہو سکی چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے لیگوس کے مقامی حاکم ان کے ایک وزیر احمد یہ مشن کے رئیس التبلیغ مغربی افریقہ اور لیگوس شہر کے چیف امام پر مشتمل وفد نے گورنمنٹ ہاؤس میں شاہ سے ملاقات کی، جناب رئیس التبلیغ صاحب نے شاہ کو ہد یہ پیش کرنے کے لئے حسب ذیل کتب منتخب کی تھیں جو آپ نے شاہ کو پیس کیں۔(1) اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ الخطاب الجلیل مصنفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ۔(۲) لائف آف محمد تصنیف منیف حضرت مصلح موعود۔(۳) ہمارے بیرونی مشن۔انگریزی مصنفہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر ربوہ۔شاہ حسین نے یہ تحفہ بہت خوشی سے قبول کیا۔پریس کے نمائندوں نے اس موقعہ پر متعدد تصاویر لیں۔لیگوس کے ممتاز ڈیلی ٹائمنز اور پائلاٹ نے شاہ حسین کے کتب کا تحفہ قبول کرنے کی تصویر شائع کی۔شاہ حسین نے اپنے قیام کے دوران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا جس میں جناب نسیم سیفی صاحب ایڈیٹر اخبار ٹروتھ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔شاہ حسین کو مذکورہ کتب کے تحفہ کے ہمراہ احمد یہ مشن کی طرف سے جو مکتوب لکھا گیا