تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 613 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 613

تاریخ احمدیت 613 جلد ۲۰ بحر نا پیدا کنار کی حیثیت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان تین سورتوں میں جو دعائیں سکھائی ہیں۔ایک ہی وقت میں ان سب کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔تا ہم یہ دعائیہ تفسیر مختصر ہونے کے با وجود اپنی ذات میں اس قدر لطیف اور جامع ہے کہ اس میں قریب قریب وہ تمام جماعتی دعا ئیں آجاتی ہیں جن سے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے افراد کو ان سورتوں میں بیان کردہ مضامین کے پیش نظر اپنی زبانوں کو ہر وقت کر رکھنا چاہیئے۔تا خدائی افضال اور رحمتوں کے وہ مورد بنے رہیں اور وہ روحانی انقلاب جس کا خدا نے وعدہ فرمایا ہے جلد دنیا میں ظاہر ہو کر دین حق کو پورے کرہ ارض پر غالب کر دے۔یہ دعائیہ تفسیر درج ذیل الفاظ میں تھی۔”اے ہمارے اللہ ! اے ہمارے ربّ! تُو ازلی ابدی خدا ہے خالق و مالک اور حی و قیوم ہے۔تو اپنی ذات میں اکیلا اور منفرد ہے۔ذات اور صفات میں کوئی تیرا ہمتا اور ہمسر نہیں۔حقیقی محسن تو ہی ہے اور تو ہی سب تعریفوں کا حقیقی مستحق ہے۔تو بلند درجات والا اور غیر محدود ہے۔تیری غیر محدود نعمتیں تیری اَن گنت مخلوق پر ہر آن اور ہر لحظہ جاری ہیں۔تیرے قُرب کے دروازے غیر محدود ہیں۔کوئی مقام قرب ایسا نہیں جس سے آگے قرب کا کوئی اور مقام نہ ہو۔اے صد خدا ! تو کسی کا محتاج نہیں اور سب مخلوق تیری محتاج ہے۔ہم بھی تیرے ہی محتاج ہیں اور تیرے ہی سامنے اپنی ضرورتوں اور احتیا جوں کو پیش کرتے ہیں۔اے لم یلد خدا !اے لم يولد خدا ! تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔تو نے اپنی صفات کسی سے ورثہ میں حاصل نہیں کیں اور نہ کوئی اور ان صفات کو تجھ سے ورثہ میں حاصل کر یگا۔کوئی ہستی اور کوئی وجود تیرا مماثل اور مشابہ نہیں۔اپنی ذات اور اپنی صفات میں تو یکتا ہے۔اے ہمارے خدا ! جو واحد ویگا نہ ہے اے ہمارے ربّ جو از لی اور ابدی ہے تُو نے ہی محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو ایک کامل اور مکمل شریعت دیگر دنیا کی طرف بھیجا ہے۔تو نے ہی آپکو روحانی دُنیا کے لئے سورج بنایا ہے۔ہم تیرا واسطہ دے کر تجھ سے ہی یہ دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اپنی اس روشنی کی سب برکتوں سے مالا مال کر۔اے خدا روحانی علوم کے یہ دریا اور دنیوی ترقیات کی یہ فراوانی ہمیں خود پسندی کی طرف نہ لے جائے اور عیش وعشرت میں نہ ڈبو دے۔اے خدا ! ہم پر ایسا فضل کر کہ جس طرح تو اپنے سورج کو آہستہ آہستہ اور تبد ریج نصف النہار تک لے جا رہا ہے۔ہم بھی تیری صفت ربوبیت کے