تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 612 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 612

تاریخ احمدیت 612 جلد ۲۰ سوالات ہوتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔ایک بجے تک ان کا لجوں میں رہا۔ان سے فارغ ہونے کے بعد روز نامہ اخبار الفضل کے دفتر میں گیا کیونکہ اپنی صحافتی برادری کی حاضری بھی ضروری تھی ڈیڑھ بجے کے قریب ہم لوگ واپس گیسٹ ہاؤس پہنچے۔وہاں کھانا تیار تھا۔میں نے اور ظفر صاحب نے کھانا کھایا کیونکہ انکار کرنا مناسب نہ تھا۔تین بجے کے قریب ہم لوگ ربوہ سے روانہ ہوئے۔کار میں گیانی عباد اللہ کے علاوہ ربوہ کے ایک دوسرے احمدی اور حافظ آباد کے ایک زمیندار احمدی تھے جو مجھے لینے کیلئے میرے وطن حافظ آباد سے ربوہ آئے تھے راستہ میں بہت دلچسپ باتیں ہوتی رہیں شام کو چھ بجے کے قریب ہم لوگ حافظ آباد پہنچے وہاں دو گھنٹے کے قریب قیام کیا اور پاسپورٹ کی خانہ پوری کرائی۔نو بجے کے قریب ہم گوجرانوالہ پہنچے اور گیارہ بجے نیڈوز ہوٹل چھوڑ نے کے بعد گیانی صاحب وغیرہ واپس ربوہ چلے گئے۔ربوہ بہت وسیع علاقہ میں تعمیر کیا جا چکا ہے اور صرف دس برس کے عرصہ میں اتنے بڑے قصبہ یا شہر کا آباد ہونا ایک تعجب خیز امر ہے۔کیونکہ احمدی جماعت کے لوگ عام طور پر غریب یا درمیانہ حیثیت کے ہیں جو آنی ضروریات کی پروا نہ کرتے ہوئے بھی اپنی فدا ہونے والی قابل قدر سپرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جماعت کی خدمت کرنا اپنا ایمان اور فرص سمجھتے ہیں اور یہی سپرٹ احمدیت کے مذہبی جھنڈے کو ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ اکثر ممالک میں بھی بلند کرنے کا باعث ہے“۔اس سال رمضان کے آخری تین سورتوں کی پر معارف دعائیہ تفسیر با برکت ایام میں بیت مبارک ربوہ میں حسب سابق پورے قرآن مجید کے جس خصوصی درس کا اہتمام کیا گیا تھا اس میں سورہ احقاف سے سورۃ الناس تک درس حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے (آکسن ) نے دیا۔28 / مارچ 1960 ء مطابق 29 /رمضان المبارک 1379ھ کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے قرآن مجید کی آخری تین سورتوں یعنی سورة الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی ایسی پُر معارف دعائیہ تفسیر بیان فرمائی کہ جسے سنکر سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی بیان فرمودہ یہ تفسیر اُن جامع دعاؤں پر مشتمل تھی جوان سورتوں سے مستنبط ہوتی ہیں۔قرآن مجید روحانی علوم و معارف کے ایک