تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 614 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 614

614 جلد ۲۰ تاریخ احمدیت ما تحت آہستہ آہستہ اور بتدریج روحانی کمالات تک پہنچتے رہیں۔اے خالق خدا خیر و برکات کے جو سامان تو نے پیدا کئے ہیں انسان اپنی غفلت اور ستی کی وجہ سے ان میں سے اپنے لئے کبھی شر کے سامان بھی پیدا کر لیتا ہے۔اے خدا تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیرے فضل اور تیری ہی رحمت سے ہر شر سے محفوظ رہیں اے خالق و مالک خدا دنیا والے آج دنیوی سہاروں اور دنیا وی سامانوں پر بھروسہ کر رہے ہیں۔اے ہمارے رب تو ہماری پناہ بن چا تو ہمارا ملجا ہو جا، ہمارا بھروسہ تیرے سوا اور کسی پر نہیں۔اے خدا تو نے اپنے قرآن میں نفع کی ہر بات اور ترقی کا ہر اصول رکھا ہے۔تو ہی ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآنی تعلیم کو کبھی نہ چھوڑیں، تا ایسا نہ ہو کہ یہ دونوں جہان ہمارے لئے جہنم بن جائیں۔ء اے ہمارے رب ! تیرا مسیح ثریا سے ہمارے لئے علوم قرآنی لے کر آیا اور تیرے خلیفہ اول نے ہمیں ان علوم کے سکھانے میں اپنی زندگی بسر کی۔اے خدا تیرے ہزاروں ہزا ر صلوٰۃ اور سلام ہوں ان پر۔اور اے خدا تیرے خلیفہ ء ثانی نے تجھ سے الہام پا کر تیرے قرآن کے علوم کو سیکھا اور دن رات ایک کر کے اور اپنے آرام کی گھڑیوں کو قربان کر کے علوم قرآنی کے ان خزانوں سے ہماری جھولیاں بھر میں اور ہمارے دل کو ان سے منور کیا۔اے خدا آج وہ بیمار ہیں اور ہم بے بس، مگر تو تو شافی اور کافی خُدا ہے، تجھے تیرے ہی منہ کا واسطہ تو ہمارے پیارے امام کو شفا دے اور بیماری کا کوئی حصہ باقی نہ رہنے دے۔آپ کی زندگی میں برکت ڈال اور آپ کی قیادت اور رہنمائی میں دنیا کے کناروں تک اپنے دین کی اشاعت کی ہمیں توفیق بخش اور ہم میں سے جو افراد اس وقت آپ کی خدمت کر رہے ہیں ان پر بھی اپنا فضل اور رحمت نازل فرما۔اے محسن خدا ! تو نے ہی افراط و تفریط کی دو پہاڑیوں کے درمیان ( دین حق ) جیسا خوبصورت میدان بنایا ہے۔اے خدا ایسا کر کہ ہم ( دین حق ) کی تعلیم سے کبھی منحرف نہ ہوں، ہمارا قدم اس میدان سے کبھی باہر نہ نکلے۔اے ہمارے رب ! روحانی فیوض تو نے ہم پر موسلا دھار بارش کی طرح برسائے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ یہی روحانیت ہم میں کبر ونخوت کے جذبات پیدا کر کے ہمارے لئے ہلاکت کا باعث بن جائے۔اے خُدا تو نے آسمان سے دودھ اتارا ہے۔اے خُدا ہمارے پیالے اس دودھ سے ہمیشہ بھرے ہی رہیں۔اے ہمارے رب أن وعدوں کے مطابق جو تو نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم سے کئے تھے تو نے اپنی تقدیر کی تاروں کو ہلانا شروع کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ( دین حق ) کی لائی