تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 592 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 592

تاریخ احمدیت 592 جلد ۲۰ یہی وجہ ہے کہ انہیں مذہبی لیڈر ہونے اور ٹانگانیکا افریقن نیشنل یونین کی مرکزی کمیٹی کا ممبر رہنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی۔وہ فرماتے ہیں کہ انسان خواہ کسی سیاسی یا سوشل تنظیم میں شامل ہوا ہے اس میں بھی اپنے مذہب کی پیروی کرنی چاہیئے۔دار السلام کے کونسلروں نے ایک ایسے انسان جو اس کردار ” ہمت اور قابلیت کا جامع ہے بطور میئر انتخاب کر کے ایک نہایت مستحسن کا م کیا ہے۔“ سنڈے نیوز مورخه ۲۴ / جنوری ۱۹۶۰ء ۲۷ میئر منتخب ہونے کے بعد شیخ امری عبیدی شیخ امری عبیدی صاحب کا صاحب نے اپنے ایک مفصل اور ایمان افروز مکتوب میں تحریر فرمایا :۔ایک ایمان افروز مکتوب ۱۵/۱/۶۰ کو میں دارالسلام کا میئر منتخب ہوا۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس انتخاب کی ہر طرف سے داد دی گئی۔مسٹر نریرے جیسے قومی لیڈر نے قریبا بتیس ہزار کے ایک عظیم اجتماع میں میرے انتخاب کو سراہا اور ٹا نگانیکا افریقن نیشنل یونین کے اراکین نے مجھے دلی مبارک باد پیش کی اور نہایت گرمجوشی سے میرا استقبال کیا۔میرے میئر بننے کی وجہ سے مشن کو علاوہ دوسرے فوائد کے یہ فائدہ بھی حاصل ہوا ہے کہ جو لوگ میری ملاقات کے لئے میرے پاس آتے ہیں۔ان سے عمو ماً مشن کے دفتر میں ہی ملاقات کی جاتی ہے اور اس طرح تبلیغ کا ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے۔لوگ احمد بیت کے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہ ہونے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔لوگوں نے اپنے بچوں کو اسلامی اور دینی تعلیم کی خاطر ہمارے سکول میں بھجوانا شروع کر دیا ہے۔چنانچہ اس وقت تک آٹھ بچے داخل ہو چکے ہیں اور مزید درخواستیں وصول ہو رہی ہیں۔مقامی اخبارات مجھ سے مذہبی امور کے متعلق پوچھتے ہیں اور مضامین لکھنے کے لئے کہتے ہیں۔چنانچہ روزوں کے متعلق میرے دو مضامین اخبار میں شائع ہو چکے ہیں۔میرے میئر منتخب ہونے کی وجہ سے امریکہ۔یونائیٹڈ کنگڈم، اسرائیل اور بعض دوسرے ممالک کے ممتاز نمائندگان بھی میری ملاقات کے لئے آتے رہے ہیں انہیں عموماً مشن کے دفتر میں اور کبھی کبھی میئر کے ملاقات کے کمرے میں ملتا ہوں اور اس ذریعہ سے ان تک تبلیغ اسلام پہنچانے کا نا در موقعہ ہاتھ آتا ہے۔