تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 591 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 591

تاریخ احمدیت 591 جلد ۲۰ صاحب سے مکمل طور پر دینی تربیت حاصل کی اور ۱۹۵۳ء میں وہ ربوہ مشنری ٹریننگ کالج۔مغربی پاکستان میں داخل ہوئے۔جہاں سے انہوں نے دینیات کی ڈگری حاصل کی ٹانگا نیکا واپس آنے پر شیخ امری صاحب کو ۱۹۵۶ء میں احمد یہ مسلم مشن ( دار السلام ) کا انچارج مقرر کیا گیا۔اور وہ تمام مشرقی صوبہ اور ساحلی علاقہ کے نگران رہے۔اس فرقہ میں ایشیائی بھی شامل ہیں۔اور افریقن بھی۔شاعر : - ۵۳-۱۹۵۰ ء تک کے عرصہ میں اس بورڈ کے اکیلے افریقن ممبر رہے جس نے قرآن مجید کا سواحیلی میں ترجمہ کیا ہے یہ ترجمہ جو ۱۹۵۳ء میں طبع ہوا معیاری سواحیلی زبان میں کیا گیا ہے۔شیخ امری صاحب اردو سواحیلی ، انگریزی اور عربی زبان بولتے ہیں سواحیلی میں یہ اٹھارہ سال کی عمر سے نظمیں لکھتے چلے آ رہے ہیں۔جن میں سیاست۔مذہب اور سوشل معاملات پر طبع آزمائی کی گئی ہے۔ان کی نظموں کا مجموعہ ایک دیوان کی۔شکل میں چھپ چکا ہے۔اور ایک دوسری تصنیف میں انہوں نے شاعری کے عام موضوع پر قلم کی روانی دکھائی ہے۔مجلس شعرائے سواحیلی کے قابل ترین ممبران بورڈ میں سے ایک ہونے کے علا وہ وہ اس مجلس کے نائب صدر بھی ہیں اور ان کی نظمیں اور مضامین مقامی پریس میں با قاعدگی سے چھپتے رہتے ہیں۔ان کا اہم ترین مشغلہ تعلیم ہے۔افریقن نو جوانوں کو جو ٹا نگا نیکا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے ہیں تبلیغی تربیت دینے کے علاوہ وہ شام کو انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ان کلاسوں میں انگریزی عربی اور سواحیلی پڑھائی جاتی ہے۔ان کا خیال ہے کہ دار السلام میں ایک سیکنڈری سکول کا ہونا لازمی امر ہے۔اور امید رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ذمہ داری : صبح پانچ بجے سے لے کر رات کے دس بجے تک کام کرنا ان کا معمول ہے درمیان میں دو تین گھنٹے کا وقفہ بھی ہوتا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ بطور میئر کے ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ان کے مذہبی کام میں حارج نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا۔ایک مذہبی آدمی کا فرض ہے کہ وہ شہری اور سیاسی کاموں میں حصہ لے اور یہ بات خود قرآن مجید سے مستنبط ہوتی ہے۔اسلام نے سیاسیات اور دوسرے قابل عمل اصولوں کی تعلیم دی ہے۔“