تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 579 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 579

جلد ۲۰ تاریخ احمدیت 579 بھارت افریقہ میں ثقافتی تبلیغ کر رہا ہے۔ہر سال افریقہ سے طلباء کی ایک خاص تعداد بھارتی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آتی ہے۔صرف مشرقی افریقہ کو لے لیجئے۔اب تک ۱۳۵۰ فریقی طلبہ بھارتی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔۲۰۰ طلبہ واپس جا چکے ہیں۔نیروبی کے ایسٹ افریقن ٹائمنر ( جو احمد یہ جماعت کا اخبار ہے ) کے بیان کے مطابق ۱۹۵۹ ء میں بھارت نے ۸ وظیفے یوگنڈا کے حبشی طلبہ کو دیئے۔۱۰ کنیا کے طلبہ کو ۴ ٹا نگا نیکا کے طلبہ کو اور ایک زنجبار کے طالب علم کو دیے گئے۔بھارت میں انڈین کلچرل کونسل ان طلبہ کو تمام سہولتیں مہیا کرتی ہے۔جہاں تک افریقی ممالک کا تعلق ہے افسوس ہے کہ ان کے متعلق مکمل فہرست حاصل نہ ہوسکی۔لیکن اندازہ کیا جاتا ہے۔کہ اس سال سینکڑوں طلبہ افریقہ سے بھارت میں تعلیم کی غرض سے آئے ہیں۔یہی جو ان طلبہ کل ان افریقی ممالک کے لیڈر ہونگے اور ان کے توسط سے بھارت کو جو سیاسی فائدہ پہنچے گا۔اس کا آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔افریقہ میں اگر کوئی پاکستانی مذہبی مشنری کام کر رہی ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے۔مشرقی افریقہ میں مسلمانوں کی آبادی ۱۵ فیصد ہے جس میں ایسٹ افریقن ٹائمز کے بیان کے مطابق ۱۰۰۰۰ افریقی لوگ احمدی ہیں۔پرتگیزی مشرقی افریقہ میں تقریباً دس لاکھ افریقی مسلمان ہو چکے ہیں۔جن میں سے غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔کینیا کے سرحدی صوبوں میں اسلام کو فروغ ہو رہا ہے اور یہاں بھی غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔نیروبی میں تو خیر احمدیوں نے ایک بہت بڑا مذہبی تبلیغی مرکز قائم کر رکھا ہے جو روزانہ انگریزی اخبار بھی شائع کرتا ہے۔اور اس کے علاوہ تعلیم کے لئے اس سینٹر نے کالج وغیرہ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ہمیں احمدیت سے شدید اختلافات ہیں اور ہم قادیانی فرقہ کے تصورات کو بالکل باطل اور گمراہ سمجھتے ہیں اور سواد اعظم کی طرح ان تصورات سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کی مساعی کی داد دینی پڑتی ہے بلی گراہم جب اپنے حالیہ دورہ میں نیروبی گئے تو اسلام کی طرف سے اگر کسی جماعت نے انہیں مباحثہ کی دعوت دی تو وہ جماعت احمد یہ تھی۔کینیا ، یوگنڈا اور ٹانگا نیکا میں اس وقت ۲۵۰۰۱۰۰۰ مسلمان آباد ہیں لیکن ان کی تعلیمی حالت بہت ہی کمزور ہے۔عیسائی مشنری سکولوں اور کالجوں کے ذریعہ سے طلبا کو عیسائیت کی طرف راغب کر رہے ہیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے