تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 578 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 578

تاریخ احمدیت امر : 578 جلد ۲۰ افریقہ کے آزاد ہونے پر افریقی عوام ایک انتہائی مشکل نفسیاتی مصیبت میں پھنس رہے ہیں۔افریقہ کے اکثر حصوں میں اب بھی انسان دھات اور پتھر کے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور جو زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ایک شدید جذباتی ایمان اور روحانی بحران میں مبتلا ہیں۔افریقہ کے عوام میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے۔کہ کبھی کوئی پیغمبر نازل نہیں ہوا۔اب تک افریقہ ایام جہالت کا بہترین نمونہ ہے سوال یہ ہے کہ افریقہ میں عوام کا مذہب کیا ہو گا۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ امریکی پادری اس پر بڑی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔حال ہی میں امریکہ کے مشہور و معروف پادری بلی گراہم نے افریقہ کا دورہ کیا گذشتہ ہفتے انہوں نے صدر آئزن ہاور سے وائٹ ہاؤس میں ۴۰ منٹ کے لئے تبادلہ خیالات کیا اور صدر آئزن ہاور کو یہ مشورہ دیا کہ نائیجیریا کا دورہ کریں کیونکہ اکتوبر میں نائیجیر یا انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا۔پادری بلی گراہم نے رپورٹروں کو ملاقات کے بعد بتایا کہ ریکہ کیلئے لازم ہے کہ وہ افریقہ کے عوام کے نیشنلزم کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کرے۔صدر آئزن ہاور کے رد عمل پر بحث کرتے ہوئے بلی گراہم نے کہا کہ صدر آئزن ہاور نے نائیجیریا کے دورے کے مسئلہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس خیر سگالی کے دورہ سے امریکہ کو جو فائدہ پہنچے گا وہ محتاج بیان نہیں۔لیکن پادری بلی گراہم کو جو غم ہے۔وہ کسی اور مسئلہ سے ہے۔انہوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ مسلمان مشنری افریقہ میں جب سات حبشیوں کو مسلمان بناتے ہیں تو عیسائی مشنری کہیں مشکل سے تین حبشیوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اسلام کی ترقی کو روکنے کیلئے بلی گراہم ایک مشنری پروگرام وضع کر رہے ہیں۔ان کا خیال یہ ہے کہ امریکی حبشیوں کو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے مشنوں میں بھرتی کرنا چاہئے جو اپنے افریقی بھائی بندوں کو آسانی سے عیسائی بنا سکیں گے۔اس کے علاوہ بلی گراہم نے کہا کہ وہ ان مشنریوں کو اپنے مشن میں بھرتی کریں گے۔جو علم نسلیات اور جناب رسالت مآب کی تعلیمات سے آگاہ ہوں گے۔تا کہ وہ اسلام کی کمزوریوں کو افریقی عوام پر واضح کرسکیں۔اب سوال یہ ہے کہ افریقہ میں تہذیب اور علم و ہنر اور مذہب پھیلانے کی ذمہ داری کس حد تک پاکستانیوں پر عائد ہوتی ہے جہاں تک کہ ہمارے عرب بھائیوں کا تعلق ہے۔وہ تو عرب نیشنلزم کے سوا بات نہیں کرتے۔اسلام ان کے لئے ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔بھارت کے پاس کوئی ایسا مذہب نہیں جس کی تبلیغ کی جا سکے۔لیکن اس کے باوجود