تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 571
تاریخ احمدیت 571 جلد ۲۰ ریلیز کے متعلق جو ایڈیٹوریل لکھا تھا۔خاکسار نے اس کا جواب دیا جو اس پر چہ میں چھپا۔اخبار والوں نے اس خبر پر یہ سرخی جمائی :۔احمد یہ جماعت کے لیڈر کہتے ہیں کہ سٹار کی دلیل ایک ایسی منطق ہے جس کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا۔“ اور خبر یوں لکھی :۔مولوی نسیم سیفی صاحب جو مغربی افریقہ میں احمد یہ مشن کے لیڈر ہیں نے ناردرن سٹار کی ایڈیٹوریل تنقید کا جواب لکھا ہے۔یہ ایڈیٹوریل احمد یہ مشن کے اس پریس ریلیز کے جواب میں تھا جس میں ڈاکٹر بلی گراہم سے ملاقات کے سلسلہ میں احمد یہ جماعت کے لیڈر کی کوششوں کا ذکر تھا۔جس روز ہم نے یہ پریس ریلیز چھاپا تھا اُسی روز ہم نے اس پر تنقید بھی چھاپ دی تھی۔ہمارا خیال ہے کہ نیم سیفی صاحب کی یہ کوشش کہ ڈاکٹر بلی گراہم سے پبلک مناظرہ کیا جائے۔غیر صحت مندانہ اقدام ہے۔ہم نے اس بات کا انتباہ بھی کیا تھا کہ کوئی شخص مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش نہ کرے۔ہم ذیل میں احمد یہ لیڈ ر کا جواب شائع کر رہے ہیں۔میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے ہمارا پریس ریلیز شائع کر دیا اور اس بات کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس پر تنقید بھی کی۔مجھے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ آپ نے اپنی تنقید پریس ریلیز کی مکمل اشاعت سے قبل ہی شائع کر دی دراصل پریس ریلیز دو اشاعتوں میں چھپا تھا اور تنقیدی ایڈیٹوریل پہلی ہی اشاعت میں شائع کر دیا گیا تھا لیکن بہر حال یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے جس پر مجھے خاص طور پر زور ینے کی ضرورت محسوس ہو۔مجھے امید ہے کہ آپ میری اس بات سے ناراض نہ ہوں گے کہ آپ کی تنقید۔اگر چہ یہ تنقید خلوص دل سے کی گئی ہے۔نہایت ہی غیر منطقی ہے۔آپ کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ ابو IBO) اور یوروبا (YORUBA) اور اسلام اور عیسائیت والی مثال ایسی ہے جس کا ایک دوسرے سے دور کا بھی تعلق نہیں۔قبائل کا تعلق وراثت سے ہے اور ہم ان کو کسی رنگ میں تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی ایک قبیلہ کے لوگ یہ تبلیغ کرتے پھرتے ہیں کہ دوسرے قبیلوں کے لوگ بھی اس قبیلہ کے لوگ بن جائیں لیکن مذہب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ہم اس بات کا انتخاب کرتے ہیں۔لوگ مذہب کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اور یہی چیز ہے جسے مذہب کی منادی کرنا کہتے ہیں۔ڈاکٹر بلی گراہم کا نائیجیر یا آنے کا مقصد