تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 570 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 570

تاریخ احمدیت 570 جلد ۲۰ رہے تھے۔جب سر فرانس ایام جو یو نیورسٹی کالج سے تعلق رکھتے ہیں نے وسطی افریقہ میں عیسائیت کے متعلق تقریر کی تھی۔ہم نے ان کو کسی رنگ میں بھی ملامت نہ کی تھی۔جب اینگلی کن سناؤ (ANGLICAN SYNOD) نے اسلام کے خلاف خطرہ کی گھنٹی بجائی تھی۔مسلمانوں نے کسی شور و غوغا سے آسمان سر پر نہ اٹھا لیا تھا۔لیکن جب مولوی نسیم سیفی صاحب نے اپنے عقائد کے متعلق چند ایک باتیں کہیں تو عیسائیوں کا غضب بھڑک اٹھا۔ہم مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عبادت اور تقریر کی آزادی ہر شخص کا پیدائشی حق ہے۔ویسٹ افریقن پائلٹ (WEST AFRICAN PILOT) روز نامہ میں ایک صاحب نے لکھا ” مولوی نسیم سیفی صاحب ایک ہندوستانی ( پاکستانی ) مسلم مشنری ہیں۔جو کہ نائیجیریا میں اپنے مذہب یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد کی تبلیغ کے لئے آئے ہوئے ہیں اور یہ ان کا جائز حق ہے۔خصوصا ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوری نظام کا دور دورہ ہے مجھے اس بات کا یقین ہے کہ قرآن کریم میں علم اور حکمت کا ایک خزانہ موجود ہے جس کے متعلق یہ صاحب لوگوں کو تبلیغ کر سکتے ہیں۔بجائے اس کے کہ بائیبل کے ایسے حوالوں پر زور دیا جائے جو متنازعہ فیہ ہیں اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے متعلق ایسے کلمات کہے جائیں جو ہتک آمیز ہیں اور عیسائیت کو بھی رگیدا جائے۔قرآن کریم اور بائیل کا موازنہ جو مبلغ اسلام کی طرف سے گاہے گا ہے پیش کیا جاتا ہے وہ ایسا ہے کہ اس سے کسی وقت بھی جھگڑے کی بنیا دکھڑی کی جا سکتی ہے۔خصوصا ایسی صورت میں کہ ان کی باتوں کا جواب دینے کی کوشش کی جائے۔مسلمان اور عیسائی ایک لمبے عرصہ سے نہایت امن وسکون کے ساتھ اس ملک نائیجیریا میں زندگی گزار رہے ہیں۔اور مذہب ان کے آپس کے تعلقات میں کبھی حائل نہیں ہو ا۔دوسرے مذہب کے متعلق باتیں کہنے کی بجائے ان صاحب کے پاس کافی مواد ہے جن کو وہ استعمال کر سکتے ہیں۔میں مولوی نسیم سیفی صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی پبلک تقاریر بیانات اور تحریروں کو قرآن کریم ہی کے دائرے میں محدود رکھیں۔اسی طرح میں اینگلی کن چرچ کے بشپ کو بھی اپیل کرتا ہوں اور میتھوڈسٹ چرچ کے چیئر مین اور عیسائیوں کی دیگر منظم جماعتوں کو بھی کہ وہ اس مبلغ اسلام کے عیسائیت پر حملوں کی روک تھام کریں“۔ناردرن سٹار نے اپنے پہلے صفحہ پر ویسٹ افریقن احمد یہ نیوز ایجنسی کے پریس