تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 568
تاریخ احمدیت 568 جلد ۲۰ مطلب واضح الفاظ میں یہ ہے کہ اپنے مذہب کی برتری ثابت کر کے لوگوں کو اس میں داخل کرنے کی کوشش کی جائے۔اس لئے ہر وہ شخص جو تبلیغ کے میدان میں نکلتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے عقائد کی صحت کو ثابت کرنے کے لئے اور اپنے مخالف لوگوں کے اعتراضات کا جواب دینے کیلئے تیار رہے چنانچہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلی گرا ہم کا فرض یہ تھا کہ وہ خاکسار کے چیلنج کو قبول کرتے۔۔یلی سروس (SERVICE DAILY) میں ایک صاحب نے سیفی صاحب چپ رہیئے' کے عنوان سے ایک خط شائع کر وایا۔جس میں ان کا موضوع سخن یہ تھا کہ خاکسار نے اپنے ہفتہ واری کالم میں جو مضمون ” گراہم کے لئے کتا ہیں“ کے عنوان سے لکھا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مجھے عیسائیت سے کہ ہے۔انہوں نے اس خط میں یہ بھی کہا کہ سیفی صاحب کو یہ بھی خیال ہے کہ نبی دنیا میں لوگوں کی اصلاح کے لئے آتے ہیں نہ کہ اپنی جان دے کر لوگوں کے گناہوں کو اپنے سر پر اٹھانے کیلئے۔اور کہ سیفی صاحب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وفات عام انسانوں کی سی وفات ہونے کی وجہ سے ان کو کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔وو جب اخبارات کے نمائندوں نے ڈاکٹر بلی گراہم سے خاکسار کے چیلنج کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر میں اس پر کوئی تبصرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں“ اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کی۔نائیجیرین ٹربیون نے اس خبر کو مندرجہ ذیل طریق پر شائع کیا۔خبر کا عنوان تھا مسلمانوں کے چیلنج پر میں اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کرتا۔ڈاکٹر بلی گراہم کہتا ہے۔اور خبر کا متن تھا :۔ڈاکٹر بلی گراہم جو مشہور عالم عیسائی مناد ہیں اور جو سوموار کے روز ابادان (IBADAN) میں مذہبی مہم کے لئے وارد ہوئے ، انہوں نے مسلمانوں کے ایک گروہ کے مناظرہ کے چینج کے متعلق کسی رائے کا اظہار کرنے سے انکار کر دیا۔جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس چیلنج کو قبول کر لیں گے یا نہیں تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا۔مغربی افریقہ میں احمد یہ موومنٹ کے لیڈر مولوی نسیم سیفی صاحب نے ان عیسائی منا د کو پبلک مناظرہ کا چیلنج دیا تھا۔کیونکہ سیفی صاحب کا خیال ہے کہ اگر کسی مذہب کی تبلیغ کرنے والا حقیقی طور پر جانتا ہے کہ وہ کن عقائد کی تبلیغ کر رہا ہے تو ان عقائد کے متعلق پبلک