تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 567
تاریخ احمدیت 567 جلد ۲۰ (ALFA طرف مبذول کراتا ہے کہ وہ مولوی سیفی صاحب کو مشورہ دیں کہ وہ بے وجہ نائیجیرین عیسائیوں کے عمائدین پر حملے نہ کریں۔سیفی صاحب جو کہ اتنے ہی زیادہ مناظر ہیں ان کے لئے نائیجیریا کوئی مناسب زمین نہیں الفابسر یوا پالا را BISRIYU (APALARA) کی یاد بھی تازہ ہے ( یہ صاحب ایک مسلمان مبلغ تھے جن کو تبلیغی لیکچر دیتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش کو لیگون (LAGOON) میں پھینک دیا گیا تھا اس قتل کے نتیجہ میں گیارہ اشخاص کو پھانسی ملی تھی (نسیم) ہمارا خیال ہے کہ مولوی سیفی صاحب کیسا تھ تعلق رکھنے والے بعض احمدیوں کی حرکات ایسی ہیں کہ ان کے نتیجہ میں ملک میں مناقشت پیدا ہونے کے امکانات ہیں اور اس کا نقصان نائیجیر یا ہی کو ہو گا۔“ اس ایڈیٹوریل کی صحیح پوزیشن بالکل وہی ہے جسے تمثیلی طور پر یوں بیان کیا جا تا ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے یہاں یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ یہ خاکسار نے اور نہ ہی کسی اور احمدی دوست نے ڈاکٹر بلی گراہم کے جلسوں میں کو ئی پمفلٹ تقسیم کئے تھے ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ ان ایام میں اندرون شہر جماعت نے ایک پمفلٹ یا درکھنے کے قابل پانچ نکات ، جس کا ذکر امریکہ کے ہفتہ وار اخبار ٹائم (TIME) نے بھی کیا تھا۔ضرور تقسیم کیا تھا۔لیکن یہ محض غلط بیانی تھی کہ ہم نے کوئی پمفلٹ گراہم کے جلسوں میں تقسیم کئے تھے یا ان جلسوں میں کسی قسم کا شور وشر پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔66 مشرقی نائیجیریا کے گورنر سر فرانس ابیام (SIR FRANCIS IBIAM) جوان دنوں سنٹرل بورڈ آف مشنز آف دی پریس بائٹیرین چرچ PRESS BYTERIAN) (CHURCH آف کینیڈا کے مہمان کے طور پر ٹورنٹو کا دورہ کر رہے تھے ان سے جب مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات اور کام کے متعلق سوالات کئے گئے تو انھوں نے پر لیس کو بتایا کہ اگر چہ نائیجیریا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لوگوں کو اپنے اپنے مذہب میں داخل کرنے کے سلسلہ میں ایک بہت بڑا مقابلہ جاری ہے لیکن ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں آپس میں کوئی مناقشت نہیں ہے۔ان سے یہ سوالات اس خبر کے سلسلہ میں کئے گئے تھے جو کہ وہاں کے مقامی اخباروں نے بلی گراہم کے دورے کے تعلق میں شائع کی تھی اور جس کا ملخص یہ تھا کہ مسلمان بلی گراہم کے دورے کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔نائیجیریا میں اخبار بین حضرات میں سے بعض کا خیال تھا کہ بلی گراہم کو چیلنج نہ دینا چاہیئے تھا۔(اور یہ لوگ سب کے سب عیسائی تھے ) اور بعض کا خیال تھا کہ چونکہ تبلیغ کا