تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 569 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 569

تاریخ احمدیت 569 جلد ۲۰ " مناظرہ ایک مفید مطلب چیز ہو سکتی ہے۔ناردرن سٹار ( روزنامہ ) میں ایک صاحب نے لکھا کہ ”مذہبی مناظرہ کسی طرح بھی غیر مفید نہیں ہو سکتا اس عنوان سے انہوں نے لکھا کہ میں نے اخبار کی لیڈنگ سٹوری جس کا عنوان مسلمان اور عیسائیت ہے بڑے شوق سے پڑھی ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کا ایڈیٹوریل بھی شوق سے پڑھا ہے ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک نہایت سرعت کے ساتھ ترقی پذیر ہے اور یہ ترقی خاص طور پر سیاسی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں ہو رہی ہے۔لیکن کیا روحانیت کی طرف بھی کوئی توجہ دی جا رہی ہے یا نہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ اس وقت دو بڑے اور اہم مذہب اسلام اور عیسائیت ہیں۔جس طرح ہم سیاسی، معاشی اور اقتصادی ترقی کے خواہاں ہیں اس طرح ہمیں اس بات کی بھی لگن ہونی چاہیئے کہ ہم سب سے اچھے روحانی نظام کے ساتھ منسلک ہوں اور اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ مختلف مذاہب کے لیڈ رتبادلہ خیالات کریں اور اپنے اپنے مذہب کے اچھے نکات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔اور اس سلسلہ میں وہ اپنی مقدس کتابوں کے حوالے بھی دیں۔میں آپ (ایڈیٹر ) سے اس بات پر متفق نہیں ہوں کہ ایسی مذہبی مجلس ایک نہ ختم ہونے والی بحث کا آغاز کر دے گی۔اور یہ بحث بدمزگی پیدا کر دے گی۔“ اس خط کے لکھنے والے صاحب نے خاکسار کے ایک خط کا حوالہ دیکر یہ ثابت کیا کہ اس ملاقات کا مقصد لوگوں کے تعلقات کو خوشگوار بنانا تھا نہ کہ ان کے درمیان مناقشت کی خلیج وسیع کرنا اور اپنے خط کو اس بات پر ختم کیا کہ ” میرا خیال تو یہ ہے کہ تمام سنجیدہ مسلمان میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ جس طرح مولوی سیفی صاحب نے تجویز کیا ہے عیسائی مناد اور مسلمان لیڈروں کی ملاقات کا انتظام ضرور ہونا چاہیئے۔ایڈیٹر نے اس بات پر نوٹ دیا :۔" قارئین کے خیالات کو خوش آمدید کہا جائے گا “۔ایک اور صاحب نے ڈیلی سروس میں لکھا ” اب اس غم و غصہ کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے، خط کا مضمون یہ تھا آپ کے اخبار میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ مولوی نسیم سیفی صاحب اسلام کا دفاع کرنا چھوڑ دیں۔یہ تجویز نہایت غیر ضروری ہے۔جب انگلستان میں مقیم نائیجیریا کے کمشنر مسٹر مبو ( MBU) نے عیسائیت کے متعلق نہایت حسین پیرائے میں ذکر کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اسلام کے متعلق ناروا الفاظ استعمال کئے تھے ہم مسلمان بالکل خاموش