تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 538 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 538

تاریخ احمدیت 538 جلد ۲۰ نیروبی میں منعقد ہوئی جس میں کینیا کالونی، ٹانگانیکا اور یوگنڈا سے افریقی اور ایشیائی احمدی مندوبین کے علاوہ مبشرین احمدیت نے بھی شرکت فرمائی۔شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ نے مشن کی سالانہ کارگزاری پر نہایت مؤثر انداز میں تبصرہ کیا۔بجٹ آمد و خرچ ۱-۱۹۶۰ ء ایک لاکھ پینتیس ہزار دوسو پچاس شلنگ منظور ہوا اور دین حق کی توسیع اشاعت کے لئے مفید اور اہم تجاویز پاس کی گئیں۔سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروخت لٹریچر کے سلسلہ میں خاص ترقی ہوئی۔چنانچہ سواحیلی ترجمہ قرآن مجید سے ۴۶۳۴/۱۸ شلنگ کی آمد ہوئی۔سواحیلی اخبار اور کتب کی فروخت سے صرف چھ ماہ میں آمد ۴۳۲۴/۸۹ شلنگ تھی۔قرآن مجید کی اسی کا پیاں مفت بھجوائی گئیں۔مشرقی افریقہ کے علاوہ مشن کی طرف سے جنوبی افریقہ، نیا سالینڈ، بلجیم ، کانگو، روڈ یشیا، سالی لینڈ، پرتگیز ، مشرقی افریقہ اور زنجبار میں بھی بذریعہ ڈاک لٹریچر بھجوایا گیا۔۱۹۵۹ء میں بعض مخالفین نے احمدیت کے خلاف بعض رسالے شائع کئے جن کا افریقن مبلغ شیخ امری عبیدی صاحب نے حقیقت افروز رنگ میں جواب دیا۔شیخ مبارک احمد صاحب نے یہ عظیم الشان خوشخبری سنائی کہ جب وہ مارچ ۱۹۵۹ء میں پاکستان رخصت گزار کر پہنچے تو مشرقی افریقہ مشن پر تقریباً ایک لاکھ شلنگ کا قرض تھا جو اب خدا کے فضل اور مخلص دوستوں کی شاندار مالی قربانیوں سے بہت حد تک اتر چکا ہے اور باقی کے جلد ختم ہونے کے امید ہے۔آپ نے ان سب مخیر اصحاب کے اسماء سنائے جنہوں نے اس کارخیر میں حصہ لیا اور بتایا کہ حضرت مصلح موعود نے بھی اس پر خوشی کا اظہار فرمایا ہے اور جناب وکیل التبشیر صاحب نے خاص شکریہ کے خطوط لکھے ہیں۔جن اصحاب نے بطور عطیہ گرانقدر امداد کی ان میں عبدالعزیز صاحب بٹ ، میسر ز فقیر محمد خاں اینڈ سنز ، ڈاکٹر ظفر محمود صاحب آف ٹبو را، ڈاکٹر نذیر احمد صاحب اور ڈاکٹر طفیل احمد صاحب ڈار خاص طور پر قابلِ ذکر تھے۔کانفرنس کے آخری اور پانچویں اجلاس میں حضرت مصلح موعودؓ کے معرکہ آرا خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۵۳ء کا ریکارڈ دو گھنٹے تک سنایا گیا جو ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب آف بور نیو کے طفیل حاصل ہوا اور جس نے سامعین پر ایک خاص کیفیت طاری کر دی۔۶۲ یوں تو نائیجیریا اور غانا کی طرح سیرالیون میں جماعت احمدیہ کے کئی سکول قائم تھے سیرالیون مگر پہلا سکول جسے حکومت نے تسلیم کیا اور اسے امداد دینے کی منظوری دی ملک کے دارالحکومت فری ٹاؤن میں ۲۰ جنوری ۱۹۵۹ ء کو کھولا گیا۔افتتاحی تقریب میں بعض نامور اصحاب نے اعتراف کیا کہ احمدیت مغربی افریقہ کے مسلمانوں کے لئے رحمت ہے جو انہیں جدید