تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 520 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 520

تاریخ احمدیت 520 کسی ہندوستانی کو نہ بیچا جائے۔تاکہ احمدی اس کو نہ خرید سکیں۔ان دنوں حضرت مولوی جلال الدین شمس صاحب امام تھے۔انہوں نے ایک انگریز نواحمدی کو ایجنٹ کے پاس بھیجا اور مکان کا سودا کرالیا۔چنانچہ یہ مکان کچھ عرصہ اس انگریز احمدی کے نام رہا۔بعد میں جماعت نے اپنے نام منتقل کرالیا۔۶۳ میلروز روڈ کا مشن ہاؤس بہت تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔اس میں ۱۹۶۷ء میں حضرت خلیفہ ثالث آکر قیام پذیر ہوئے تھے۔اپنے طالب کے زمانہ میں بھی حضور نے اپنی تعطیلات کا اکثر حصہ اس عمارت میں گزارا تھا۔مسلم دنیا کے چند بڑے مشاہیر بھی اس مشن ہاؤس میں آتے رہے۔جن میں قائد اعظم محمد علی جناح، شاہ فیصل آف سعودی عرب، شاه ادریس آف لیبیا، علامہ سر محمد اقبال، سر فیروز خان نون جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔سر شیخ عبدالقادر، مشہور صحافی غلام رسول مہر اور م۔ش ، مشہور مؤرخ عاشق حسین بٹالوی ، میاں ممتاز دولتانہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب وغیرہ شامل تھے۔ان کے علاوہ سر سنگھاٹے گورنر جزل گیمبیا پریذیڈنٹ طب مین آف لائبیریا اور بہت سارے وزراء، سفراء اور عمائدین بھی اس مشن ہاؤس میں تشریف لائے۔یہ دونوں عمارات ۱۹۷۰ ء میں نئی عظیم الشان بلڈنگ بن جانے کے بعد مسمار کر دی گئیں۔۱۹۵۹ء میں لندن میں خدام الاحمدیہ کی تنظیم قائم تھی۔ملک خلیل الرحمن قائد ہوا کرتے تھے۔یہ نہایت فعال اور مخلص کارکن تھے۔۱۹۶۲ء میں نئے نظام کے ماتحت مرکز نے خاکسار کو برطانیہ میں خدام الاحمدیہ کا نائب صدر مقرر کر دیا۔ان دنوں صدر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان میں ہوا کرتے تھے۔بیرونی ممالک میں نائبین کا تقرر کر دیا جاتا تھا۔لجنہ اماءاللہ کی تنظیم بھی قائم تھی۔اس کی صدر مسز نسیم ہوا کرتی تھیں۔ان کے خاوند ڈاکٹر نسیم صاحب جو الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج تھے اور مجلس عاملہ انگلستان کے جنرل سیکرٹری تھے۔خاکسار کی آمد پر مرکز نے خاکسار کو نائب امام ہونے کے علاوہ مجلس عاملہ کا جنرل سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری مقرر کر دیا تھا۔مسز نسیم کے بعد جلد ۲۰