تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 521
تاریخ احمدیت 521 مسر اشرف صدر لجنہ منتخب ہوئیں۔ان کے بعد ایک لمبے عرصہ تک مسز سلام جو ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی اہلیہ ہیں صدر لجنہ رہیں ان کے دور صدارت میں لجنہ نے بہت ترقی کی۔برطانیہ بھر میں نئی لجنات کا قیام عمل میں آیا۔سالانہ اجتماعات کا آغاز ہوا۔بیت الفضل میں ان دنوں بیٹنگ (Heating) کا انتظام بہت ناقص تھا۔چند ہیٹر تھے۔جبکہ بیت الذکر کا فرش سردیوں میں بے حد ٹھنڈا رہتا تھا۔سردیوں میں نمازیوں کی تعداد معدودے چند ہوتی تھی۔اور بیت الذکر کو گرم کرنے پر بہت زیادہ خرچ آتا تھا۔اس لئے عموماً موسم سرما میں نماز میں مشن ہاؤس کے ایک کمرہ میں ادا کی جاتی تھیں۔انگلستان میں ان دنوں شدید سردی پڑتی تھی۔دسمبر، جنوری ، فروری اور بسا اوقات مارچ میں بھی برفباری ہو جاتی تھی۔موسم سرما کی سب سے تکلیف دہ بات شدید دھند ہوا کرتی تھی۔جو بعض اوقات ایک دو دن متواتر رہتی تھی۔اس شدید دھند میں اکثر صرف چند فٹ تک نظر آتا تھا۔اور یوں لگتا تھا کہ کسی نے سفید چادر تان رکھی ہے۔یہ موسم دمہ کے مریضوں کے لئے خطرناک ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ۱۹۶۰ء میں ایک دفعہ میں اپنے قریبی بازار سے مشن ہاؤس کی طرف آ رہا تھا کہ اچانک دھند چھا گئی۔اور تھوڑی ہی دیر میں بمشکل ایک فٹ یا اس سے بھی کم نظر آنے لگا۔میں سخت پریشانی کا شکار ہوا۔راستہ نظر نہیں آتا تھا۔سردی کی شدت اس کے علاوہ تھی۔میں بے بسی کی حالت میں فٹ پاتھ کی ایک جانب کھڑا ہو گیا۔دھند کی وجہ سے سڑکیں بھی سنسان تھیں۔ٹریفک رک گئی تھی اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کہ اللہ کی مدد حاصل ہو اور کسی طرح گھر تک پہنچ سکوں۔اسی گھبراہٹ میں میں نے اپنے قریب آہٹ سنی۔تو میں نے مدد کے لئے درخواست کی ایک انگریز نے میرا ہاتھ پکڑا اور پوچھا کہاں جانا ہے میں نے گھر کا پتہ بتایا وہ کہنے لگے۔میں نے بھی اسی سڑک پر جانا ہے۔آؤ ا کٹھے قدم قدم چلتے ہیں۔مجھے دھند میں گھر تک پہنچنے کا تجربہ ہے۔چنانچہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ چلنا شروع کیا۔اور کچھ دیر بعد گھر پہنچا۔اور انگریز کا دلی شکر یہ ادا کیا اور خدا کا شکر کیا۔جلد ۲۰