تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 519
تاریخ احمدیت 519 سیرت، مخلص ، فدائی اور بے نفس انسان تھے۔۱۹۵۹ء میں لندن کا مشن دو مکانات پر مشتمل تھا۔یعنی ۶۱ اور ۶۳ میلروز روڈ۔۶۳ میلر وز روڈ تو مشن ہاؤس تھا۔یہ تین منزلہ عمارت تھی اور ایک نہ خانہ تھا۔نہ خانہ میں ایک باورچی خانہ اور ایک کمرہ بھی تھا۔یہ باورچی خانہ جماعتی تقاریب کے دنوں میں استعمال ہوتا تھا۔اور کمرہ میں کوئی نہ کوئی احمدی مہمان رہائش پذیر رہتا تھا۔گراؤنڈ فلور پر دو بڑے کمرے تھے۔جس کے درمیان کی دیوار کو گرا کر وہاں ایک Sliding door ہوا کرتا تھا۔عام دنوں میں ایک کمرہ بطور ڈرائنگ روم اور دوسرا کمرہ بطور لائبـــریـــری استعمال ہوتا تھا۔لیکن میٹنگز کے لئے درمیانی دروازہ کھول کر سارے کمرہ کو استعمال میں لایا جاتا تھا۔گراؤنڈ فلور پر دو دفاتر بھی تھے اور ایک غسلخانہ بھی تھا۔اور باہر کی طرف بالکنی تھی۔اوپر کی دومنزلیں امام کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال میں لائی جاتی تھیں۔۶۱ میلر وز روڈ ایک وسیع و عریض بلڈنگ تھی۔اس میں زیر زمین ایک فلیٹ کے علاوہ اوپر تین منزلیں تھیں۔۱۹۵۵ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی لندن تشریف لائے تو اسی بلڈنگ میں رہائش پذیر ہوئے تھے جبکہ ۱۹۶۷ء میں اپنے دورہ انگلستان کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۶۳ میلر وز روڈ میں قیام فرمایا تھا۔ابتداء میں جب بیت الفضل کے لئے قطعه خریدا گیا تھا تو اس کے ساتھ ۶۳ میلر وز روڈ کی بلڈنگ کے علاوہ قریباً ایک ایکڑ زمین کا ٹکڑا بھی تھا۔جبکہ ۶۱ میلر وز روڈ ایک انگریز کی ملکیت میں تھا۔جو بیت الفضل بن جانے کے بعد جماعت کا بہت مخالف ہو گیا تھا اور اس نے بیت الفضل سے نداء دیے جانے کی مخالفت بھی کی تھی۔اور لوکل کونسل میں جماعت کے خلاف دعوی دائر کیا تھا کہ یہ بیت الفضل میں نداء نہ دیا کریں لیکن کونسل نے جماعت کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔جنگ عظیم دوم کے ایام میں جب بیت الفضل کے اردگرد کے علاقہ میں جرمن بمباری نے شدت اختیار کی تو ۶۱ میلر وز روڈ کے مالک نے اپنا مکان فروخت کے لئے لگا دیا لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کر دی کہ یہ مکان جلد ۲۰