تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 517
تاریخ احمدیت 517 درست ہے کہ بجٹ میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔لیکن وہ اپنی جیب سے خرچ کر کے خاکسار کو ایک تیل کا ہیٹر مہیا کر دیں گے۔اور جب بجٹ میں گنجائش نکل آئے گی تو رقم لے لیں گے۔تھوڑی دیر بعد وہ بازار سے ایک تیل سے نے والا ہیٹر لے آئے۔میں نے یہ اپنے ایک کمرہ میں جلایا۔کمرہ کی سردی میں کمی آنی شروع ہوئی تو میری جان میں جان آئی۔اور میں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ مولوی عبدالرحمن صاحب کے لئے بہت دعا کی۔میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا۔دو چار دن کے بعد ایک دن مکرم امام صاحب نے مجھے ایک فہرست دی اور فرمایا کہ اس فہرست میں برطانیہ میں مقیم دوصد افراد کے نام ہیں لیکن ان میں سے اکثر طالب علم ہیں۔جو ممکن ہے وطن واپس جاچکے ہوں اور بعض ایسے ہیں جو عید پر ہی نظر آتے ہیں۔تم اس فہرست کے افراد کو چیک کر کے ایک نئی فہرست تیار کرو۔صرف ان احمدیوں کی جو واقعی برطانیہ میں موجود ہیں۔میں نے ان سب احباب سے رابطہ کی کوشش کی اور کچھ عرصہ کی جد و جہد اور دوڑ دھوپ کے بعد جن احباب سے رابطہ کر سکا ان کی کل تعداد ۱۴۹ نکلی۔گویا ۱۹۵۹ء میں سارے انگلستان میں یہ کل احمدیوں کی تعداد تھی۔جماعت ان دنوں زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل تھی۔فیملی والے خال خال تھے۔ساری جماعت میں صرف مولوی عبد الرحمن صاحب، چوہدری محمد اشرف صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس کاریں تھیں۔اور یہ متینوں کاریں مشن کے استعمال میں بھی آیا کرتی تھیں۔انہیں جب بھی جماعتی کاموں کے سلسلہ میں بلایا جاتا تھا یہ فوراً اپنی کا رسمیت حاضر ہو جایا کرتے تھے۔پٹرول بھی اپنا خرچ کر کے جماعتی کاموں کو مستعدی سے سرانجام دیتے تھے۔مولوی عبد الرحمن صاحب غالبًا ۱۹۴۸ء میں پہلی مرتبہ بطور تجارتی مربی انگلستان بھجوائے گئے تھے۔بعد میں انہوں نے وقف سے فراغت حاصل کر لی اور انگلستان میں بس گئے۔نہایت مخلص، فدائی اور خادم دین تھے۔میں جب انگلستان پہنچا تو یہ ایک ریسٹورنٹ چلا رہے تھے۔بعد میں جلد ۲۰