تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 516 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 516

تاریخ احمدیت 516 ہم نے ساگ گوشت کھایا تو بہت لطف آیا۔بحری جہاز میں ہم نے گوشت کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اور صرف سبزیوں پر گزارہ کیا تھا۔کھانے کے بعد امام صاحب ہمیں ملحقہ بلڈنگ یعنی ۶۱ میلر وز روڈ میں لے گئے۔یہ چار منزلہ عمارت تھی۔اور اس میں احمدی کرایہ دار مقیم تھے۔چوتھی منزل پر ایک کمرہ کا فلیٹ تھا۔یہ ہماری رہائش گاہ تھی۔امام صاحب نے فلیٹ کی چابی ہمیں دی اور ہم نے اپنا سامان رکھا۔رات کافی بیت چکی تھی اور سفر کی تھکان بھی تھی۔جلد سونے کی کوشش میں بستروں پر دراز ہو گئے۔رات یخ بستہ تھی۔سارا فلیٹ کرہ زمہریرہ بنا ہوا تھا۔اس زمانہ میں گھروں میں سنٹرل ہیٹنگ کا کوئی انتظام نہ تھا۔عام طور پر گھروں میں کوئلے کی انگیٹھیاں یا تیل سے چلنے والے ہیٹر ز ہوتے تھے۔لیکن ہمارا فلیٹ ان دونوں سہولیات سے محروم تھا۔ہم پاکستان سے اپنے ساتھ رضائیاں لائے تھے۔ان میں گھس گئے۔لیکن سردی اتنی شدید تھی کہ رضائیاں بھی اس کی شدت کو کم کرنے میں نا کام ہوگئیں۔رات آنکھوں میں کئی اور خدا خدا کر کے صبح ہوئی۔باہر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر برف جمی ہوئی تھی۔مشن کے باغ کو بھی برف کی سفید چادر نے پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا۔صبح ہونے پر ہم ناشتہ کے لئے محترم امام صاحب کے گھر گئے۔انہوں نے پوچھا رات کیسے کئی۔میں نے عرض کیا۔اتنی شدید سردی تو میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھی تھی۔ربوہ میں بھی ہمارے گھر میں بجلی کے ہیٹرز موجود تھے۔امام صاحب نے فرمایا۔افسوس کہ آپ کے فلیٹ میں ہیٹرز مہیا کرنے کی بجٹ میں گنجائش نہیں ہے۔دو پہر کو محترم مولوی عبد الرحمن صاحب تشریف لائے۔آپ واقف زندگی تھے۔لیکن اب فراغت پا کر اپنا کاروبار کرتے تھے۔مجھے رات کی شدید سردی سے نزلہ کا عارضہ تھا۔مولوی صاحب موصوف نے پوچھا کوئی تکلیف تو نہیں۔خاکسار نے عرض کیا مولوی صاحب میرے فلیٹ کو گرم رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔نہ جانے اس شدید سردی میں وقت کیسے گزرے گا۔مکرم مولوی صاحب نے فرمایا کہ وہ فنانس کمیٹی کے ممبر ہیں اور یہ بات جلد ۲۰