تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 518 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 518

تاریخ احمدیت 518 پاکستان ہائی کمیشن کے زیر اہتمام چلنے والے پاکستانی کینٹین کے مالک بنے۔ہر کسی کے کام آنے والے اور خدمت گزار انسان تھے۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی انہیں کسی جماعتی خدمت کے لئے بلایا گیا ہو اور انہوں نے کسی قسم کی پس و پیش کی ہو۔چوہدری محمد اشرف صاحب ایک زمانہ سے انگلستان میں مقیم تھے۔نہایت مخلص مہمان نواز خادم دین اور خوش خلق انسان تھے۔دوستوں کو باصرار گھر لے جا کر ان کی خاطر تواضع کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔اکثر جماعتی میٹنگز کے مواقع پر گھر سے انواع و اقسام کی مٹھائیاں وغیرہ لا کر احباب کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ان کی موٹر کار ہر کسی کے استعمال کے لئے ہر وقت حاضر رہتی تھی۔اس لئے بعض احباب مذاقا ان کی کار کو مشن کی مفت ٹیکسی بھی کہا کرتے تھے۔مجھے ان کے ساتھ کئی مرتبہ لندن سے سو دوسو میل باہر تک جانے کا اتفاق ہوا لیکن باوجود میرے اصرار کے کبھی پٹرول کے لئے ایک پینی بھی قبول نہ کرتے تھے۔ان کی بیگم صاحبہ ایک عرصہ تک انگلستان لجنہ اماء اللہ کی صدر بھی رہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب بھی واقف زندگی تھے۔افریقہ میں لمبے عرصہ تک خدمات بجا لانے کے بعد بعض مجبوریوں کی وجہ سے فراغت حاصل کر کے لندن میں مقیم ہو گئے تھے۔ان کی کار بھی مشن کے کاموں کے لئے وقف رہتی تھی۔یہ محترم مولانا محمد احمد جلیل کے چھوٹے بھائی تھے۔عبدالعزیز دین صاحب ایک لمبے عرصہ سے انگلستان میں رہتے تھے۔بچپن میں اپنے والد حضرت عزیز دین صاحب کے پاس جو ان دنوں انگلستان میں تھے چلے آئے تھے۔عبد العزیز دین کو جماعت کی خدمت کی لمبے عرصہ تک توفیق ملی۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے جب ہائیڈ پارک میں ایک پادری سے مناظرے کئے تو عبدالعزیز دین ٹائم کیپر کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔۱۹۳۱ء میں جب قائد اعظم محمد علی جناح بارہا لندن مشن حضرت مولانا درد صاحب سے ملنے آتے تھے تو عبدالعزیز دین صاحب ان کی مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔مرحوم فرشتہ جلد ۲۰