تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 486 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 486

تاریخ احمدیت 486 جلد ۲۰ کے اعلیٰ اخلاق اور کردار کی وجہ سے پورا علاقہ ان کا احترام کرتا تھا۔ہمارے دادا راجہ پناہ خان صاحب بس لکھے پڑھے آدمی تھے۔اگر چہ انہیں احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی لیکن انہوں نے والد صاحب کی کبھی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی احمدیت کے متعلق کبھی منفی رد عمل ظاہر کیا جیسا کہ اس علاقہ کے عام لوگوں کا دستور تھا۔۔۔۔۔۔۔احمدیت کی برکت سے والد محترم بہت پابندی اور خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کرتے تھے۔رمضان میں باقاعدہ روزے رکھتے اور ہر سال اپنے پڑوس میں رہائش رکھنے والے ایک مسکین اور ضعیف بزرگ بابا دوست محمد صاحب کو باقاعدگی سے دو وقت کا کھانا یعنی سحری اور افطاری خود ان کے گھر پہنچاتے۔یہ ڈیوٹی اپنے کسی بیٹے یا ملازم کے سپرد نہ کرتے۔آپ ڈلوال کے حاجت مندوں اور بیماروں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد ہوا ہے کہ الہی افضال اور نعمتوں کا اثر انسان کی اپنی شخصیت پر بھی نظر آنا چاہئے۔آپ اپنے اہل وعیال کی جائز ضروریات و اخراجات کا مناسب خیال رکھتے تھے۔آپ خود بہت وضع دار شخصیت کے مالک تھے۔آپ کا لباس صاف ستھرا اور بے شکن ہوتا۔آپ عام طور پر شلوار قمیص استعمال کرتے تھے اور اوپر کوٹ پہنتے تھے۔سر پر کلہ اور طرہ والی پگڑی ہوتی تھی اور ہاتھ میں بید کی چھڑی۔۔ان میں والد صاحب کا نام بھی شامل تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہم سب بہن بھائی تقریباً سکول جانے کی عمر کے تھے۔ہمارے والد صاحب اپنی مالی قربانیوں کا ہمارے ساتھ ذکر نہیں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی جملہ مالی نیکیاں اور جماعتی خدمتیں قبول فرمائے۔آمین خاکسار نے جب ۱۹۸۵ء میں بیرون ملک سے مستقل طور پر پاکستان واپس آکر ربوہ میں سکونت اختیار کر لی تو کچھ عرصہ کے بعد خیال آیا کہ جماعت کی جانب سے مناظرہ ڈلوال میں شرکت کرنے والے دو بزرگوں حضرت مولوی محمد حسین صاحب (سبز پگڑی والے ) اور مکرم مولانا احمد علی شاہ صاحب (جو ان دنوں نائب ناظر اصلاح و ارشاد کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے ) سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے تو ان قابل احترام بزرگوں