تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 485 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 485

تاریخ احمدیت 485 خوبصورت نظم خوش الحانی سے پڑھتے ہوئے کئی بار سنا جس کا پہلا شعر یہ ہے۔کبھی نصرت نہیں ملتی در مولیٰ سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو والد محترم بتاتے تھے کہ جب وہ یہ دلآویز الفاظ مترنم آواز میں سنتے تھے ان کے قلب و ذہن پر خاص اثر ہوتا تھا۔اور یہی حق کی پہلی آواز تھی جو ان کے کان میں پڑی اور دل میں اترتی چلی گئی۔پر ڈلوال اور اس کے اردگرد کا علاقہ فوجی خطے کے طور پر مشہور تھا اور ہمارے دا دا راجہ پناہ خان صاحب، حضرت علی محمد صاحب رفیق حضرت مسیح موعود بیعت ۱۹۰۵ء) سلسلہ عالیہ کے ایک معروف بزرگ اور متدین و پروقار شخصیت تھے ان کا آبائی گاؤں چوآسیدن شاہ سے مشرق کی طرف کچھ فاصلہ اقع تھا اور کوٹ راجگان کہلاتا تھا۔جماعت احمد یہ لاہور کے ایک مخلص خادم سلسلہ مکرم راجہ غالب احمد صاحب حضرت راجہ علی محمد صاحب کے فرزند ہیں۔جب میرے والد صاحب راجہ فضل داد خان نے کچھ عرصہ کے لئے لاہور وغیرہ میں ملازمت کی تو راجہ علی محمد صاحب، جو افسر مال کے عہدے پر تعینات تھے ، کی نیک صحبت اور گفتگو کا والد صاحب پر بہت اچھا اثر پڑا۔اسی طرح خوش قسمتی سے والد صاحب کی ملاقات لاہور ہی میں خان بشیر احمد خان صاحب سے ہوئی جو کپورتھلہ جیسی خوش قسمت جماعت کے معروف بزرگ حضرت منشی محمد خان صاحب کے منجھلے صاحبزادے تھے۔والد صاحب کے قبول احمدیت کے بعد ان کی شادی خان بشیر احمد خان صاحب کی دوسری بیٹی محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ سے ہو گئی۔اس طرح حضرت منشی محمد خان صاحب ہماری والدہ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ کے سگے دادا اور ہم بہن بھائیوں کے پڑنا نا ہوئے۔والد صاحب کی شادی کے بعد ڈلوال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلا احمدی گھرانہ قائم ہو گیا اور والد صاحب کا دوالمیال جماعت کے ساتھ ملنا جلنا بہت بڑھ گیا۔الحمد للہ ہمارے والد صاحب محترم راجہ فضل داد خان بیعت کے بعد بفضلہ تعالیٰ ہمیشہ ثابت قدم رہے۔اس زمانہ میں وہ ڈلوال میں اکیلے احمدی تھے لیکن ان جلد ۲۰