تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 487
تاریخ احمدیت 487 سے ڈلوال کے مناظرہ کے کچھ حالات بھی سننے کی سعادت حاصل کی جائے۔چنانچہ خاکسار باری باری ان دونوں بزرگوں کے پاس حاضر ہوا۔اور مناظرہ سے متعلق ایمان افروز واقعات سنے۔محترم مولانا احمد علی شاہ صاحب نے بتایا کہ ڈلوال میں یہ مناظرہ فروری ۱۹۴۲ء میں احمدیوں اور مخالفین کے درمیان ہوا تھا۔مخالف گروہ کے بڑے مناظر مولوی لال حسین اختر تھے۔جماعت احمدیہ کے مناظر اعلیٰ محترم مولانا محمد یار عارف تھے جو علم وفضل اور اخلاق کا عمدہ نمونہ تھے۔جب خاکسار سکول کا طالب علم تھا تو ہمارے والد محترم راجہ فضل داد خان مرحوم نے ایک سے زائد مواقع پر خاکسار کو اس مناظرے کے انعقاد کی وجہ اور آغاز کی کہانی بتائی۔والد محترم فرماتے تھے کہ ایک دفعہ جب وہ اپنی زمینوں کے دورے پر (ضلع سرگودھا ) گئے ہوئے تھے تو مولوی لال حسین اختر ڈلوال آکر مسجد خواجگان میں مقیم ہوئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہاں بھی کوئی قادیانی ہے؟ تو لوگوں نے والد صاحب کا نام لیا۔جب والد صاحب زمینوں سے واپس آئے اور انہیں اس بات کا پتہ چلا تو وہ خود مسجد خواجگان میں پہنچ گئے۔ابتدائی گفتگو کے بعد مولوی لال حسین اختر سے مناظرہ کی بات چل پڑی اور والد صاحب نے مرکز قادیان میں ساری اطلاع تحریراً عرض کر دی اور اس طرح مقررہ تاریخ تک ہمارے تینوں فاضل مناظر جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے، تشریف لے آئے اور اس طرح ڈلوال کی جامع مسجد (مسجد خواجگان) میں یہ تاریخی مناظرہ ہوا۔اور علاقہ بھر کے لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے والد صاحب اور آپ کے اہل خانہ اور خادمان کو ان دنوں میں بہت خدمت کا موقع ملا۔اردگرد کے احمدی احباب پورے ایمانی جذبہ اور ذوق و شوق سے یہ مناظرہ سننے کے لئے ڈلوال آئے۔ان سب احباب کے کھانے کا مکمل بندوبست ہمارے والد محترم اپنے وسیع و عریض گھر پر کرتے۔یہ حویلی نما گھر جو دو منزلوں پر مشتمل ہے آج بھی موجود ہے اوپر والی منزل گھر والوں کا رہائشی حصہ تھا اور نچلی والی منزل پر آرام دہ مہمان خانہ اور وسیع صحن موجود تھا۔بہت سے احباب شام کو واپس اپنے گھروں میں چلے جاتے تھے لیکن کچھ دور دراز جلد ۲۰