تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 484 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 484

تاریخ احمدیت اولاد 484 جسم دور تھا لیکن میری روح اس کے گرد بے قرار رب العالمین کے حضور اس کی صحت یابی کے لئے زاری میں تھی۔عبداللہ خان اپنے رب کے بلا وے پر لبیک کہتا ہوا اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا اور ہم بھی اپنے اپنے وقت پر وہیں جانے والے ہیں اور وہاں پھر جدائی نہ ہوگی۔" ا چوہدری محمد نصر اللہ خاں صاحب۔امیر جماعت احمد یہ عمان - ۲ - چوہدری حمید نصر اللہ خاں صاحب۔امیر جماعت احمد یہ لاہور ۳ - چوہدری اور میں نصر اللہ خاں صاحب ایڈووکیٹ لاہور رکن افتاء کمیٹی -۳- راجہ فضل داد صاحب رئیس ڈلوال ضلع چکوال ( وفات ۲۹ ستمبر ۱۹۵۹ء) جلد ۲۰ ۷۵ بستی ڈلوال کے پہلے احمدیت بزرگ تھے۔حضرت راجہ علی محمد صاحب (رفیق مسیح موعود ) کے ذریعہ احمدیت کی دولت نصیب ہوئی۔آپ کے بیٹے محترم پروفیسر راجا نصر اللہ خاں صاحب پرنسپل ہیون سکول ربوہ تحریر فرماتے ہیں :- ڈلوال کا قریبی گاؤں دوالمیال حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے ہی احمدیت کی برکت اور جماعت کی تعداد کے لحاظ سے علاقہ بھر میں خاص اہمیت اور شہرت رکھتا ہے۔پہلے احمدی جرنیل ملک نذیر احمد صاحب کا تعلق دوالمیال ہی سے تھا اور ڈلوال کے پہلے احمدی خاکسار کے والد محترم راجہ فضل داد خان رئیس ڈلوال تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ان کے قبول احمدیت کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود کا یہ پیارا مصرع صادق آتا ہے :- ھے جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار والد محترم نے خود خاکسار کو سنایا کہ جب وہ ڈلوال مشن سکول میں پڑھتے تھے تو اس وقت دوالمیال کے کچھ احمدی طلباء بھی اس سکول میں زیر تعلیم تھے۔والد صاحب بتاتے تھے کہ انہوں نے ان طلباء کو درمشین کی وہ