تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 483 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 483

تاریخ احمدیت 483 دل بدرد آمد زیجر اینچنیں یک رنگ دوست ایک خوشگودیم برفعل خداوند کریم اے خدا بر تربت أو بارش رحمت بیار داخلش کن از کمال فضل در بیت النعيم جلد ۲۰ ( عاجز ظفر اللہ خان ) اس نوٹ کے بارہ سال بعد آپ نے اپنی معرکہ آراء تالیف ” تحدیث نعمت“ میں تحریر فرمایا کہ:- بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے دوران ۱۹۵۹ء میں مجھے بھائی عبداللہ خان کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔وہ کراچی میں ایڈیشنل کلیمز کمشنر تھے۔اور جماعت احمدیہ کراچی کے امیر بھی تھے۔طبیعت کے حلیم، متواضع ، صابر اور کم گو تھے۔ان کے ہاتھ اور ان کی زبان سے کسی کو ضر ر نہیں پہنچا اور بہت ہیں جو ان سے فیضیاب ہوئے۔کئی سالوں سے ان کی صحت اچھی نہ تھی اور وفات سے پہلے تین سال تو انہوں نے پیہم درد و کرب میں گزارے۔لیکن اس سارے عرصہ میں اپنے فرائض منصبی کی کماحقہ سرانجام دہی ، بنی نوع انسان کی گہری ہمدردی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مخلصانہ خدمت میں کسی قسم کی ستی یا کوتا ہی سرزد نہ ہونے دی۔نہ ہی کبھی حرف شکایت زبان پر آنے دیا۔عبداللہ خان فرمانبردار بیٹا ، اطاعت گزار بھائی ، مونس و غم خوار خاوند، شفیق باپ، وفادار اور قابلِ اعتماد دوست تھا۔اس کا دل نورِ ایمان سے منور تھا۔میرے ساتھ اسے گہری محبت تھی۔میں نے اس کا پیارا چہرہ آخری مرتبہ ۱۵/فروری ۱۹۵۹ء کی سہ پہر کو کراچی کے مطار پر دیکھا جب میں نے اسے لا ہور جانے کے لئے رخصت کیا۔لاہور پہنچنے کے بعد اسی رات اس کے سینے میں شدید درد اٹھا اور ساتھ ہی بخار بھی ہو گیا۔کچھ دن بعد اس حالت میں کچھ افاقہ تو ہوا لیکن دراصل پھر طبیعت سنبھلی نہیں۔کمزوری بڑھتی گئی اور دبے ہوئے عوارض ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔آخر این جانِ عاریت که به حافظ سپرد دوست روزے رخش به بینم و تسلیم دے کنم وے کا ازلی عہد وفا کیا۔اس کی وفات کے وقت میں ہیگ میں تھا۔میرا