تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 477 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 477

تاریخ احمدیت 477 جلد ۲۰ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس میں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی تقریر بھی تھی۔خاکسار اس وقت سیکرٹری امور عامہ تھا۔مخالفین نے بڑا شور اور ہنگامہ برپا کیا لیکن محترم چوہدری عبداللہ خاں صاحب نہایت استقلال و استقامت کے رنگ میں حکم رہے اور جلسہ کو جاری رکھا۔بعد میں جب یہ فسادات بڑھ گئے تو آپ ہر رنگ میں جماعت کی بہتری کے لئے کوشاں رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نتیجہ جماعت احمدیہ کراچی معمولی نقصان کے سوا جانی اور مالی نقصان سے محفوظ رہی۔اس زمانہ کے حالات کے مطابق حضرت مصلح موعود کے نزدیک یہ امر ضروری تھا کہ جماعت احمدیہ کراچی میں ایک صدرانجمن احمد یہ قائم کی جائے۔چنانچہ حضور کے ارشاد پر یہ قائم کی گئی۔جس کا ایک رکن خاکسار بھی تھا۔حضور کی ہدایت یہ تھی کہ تمام کارروائی محترم چوہدری عبداللہ خاں صاحب کی ہدایات پر کرنی ہے۔میجر شمیم احمد صاحب سابق نائب امیر جماعت احمدیہ کراچی حال مقیم کینیڈا کا بیان ہے کہ: وو ' آپ انتہائی ہر دلعزیز ، زندہ دل، مرنجاں مرنج قسم کے انسان تھے۔ہر چھوٹے بڑے سے ایک جیسے ملاقات کرتے۔کبھی کسی سے آپ نے گریز نہیں کیا۔اور نہ ہی امتیاز برتا۔آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ امیر جماعت بھی تھے اور ایک مخلص دوست بھی۔یہی وجہ تھی کہ احباب جماعت آپ سے بہت نزدیک تھے۔اور بے حد مانوس۔ورنہ بالعموم احباب جماعت اور امیر جماعت میں ایک بعد رہتا ہے۔آپ کے مزاج میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا خلوص عطا ہوا تھا کہ جو شخص آپ سے ملتا آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔میرے دل میں ان کی بھاری قدر ان کی ( دینِ حق ) دوستی اور احمدیت سے عشق اور ہر حاجتمند کی امداد کے لئے مستعدی کی وجہ سے تھی۔ایک دفعہ آپ کے گاؤں کے ایک دھوبی نے کراچی آکر اپنا پاسپورٹ آپ کی مدد سے بنوانا چاہا۔ان دنوں پاسپورٹ بنوانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔آپ نے اسے بہتیرا سمجھایا کہ فی الحال ٹھہر جاؤ۔لیکن اس کا اصرار تھا کہ آپ چوہدری ہیں اور آپ کے لئے کوئی کام مشکل نہیں۔آپ نے اس کے اصرار پر مجبور ہو کر فون اٹھایا اور پاسپورٹ آفیسر سے یوں گویا ہوئے کہ یہ ہمارے گاؤں کا ایک غرض مند آیا ہے جسے پاسپورٹ درکار ہے۔اس کا اصرار ہے کہ آپ چوہدری ہیں۔میں اسے بہت دیر سے سمجھا رہا ہوں کہ ہم چوہدری اپنے گاؤں کے ہیں ، یہاں کے نہیں۔لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں۔افسر مذکور بھی کوئی زندہ دل ہی تھا۔فوراً بول اٹھا۔اسے کہہ دیں آپ یہاں بھی چوہدری ہیں۔اس کا کام ہو