تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 478
تاریخ احمدیت جائے گا۔478 جلد ۲۰ آپ کا کام کرانے کا طریق نرالا تھا۔ہر ضرورت مند کی ضرورت پورا کرنے اور اس کی اعانت کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔آپ میل ملاقات میں بہت خلیق اور متواضع انسان تھے۔بجے اس کی باتوں میں گلوں کی خوشبو وو آپ کی مہربانیاں اور الطاف کریمانہ کسی خاص دوست یا حلقہ تک محدود نہ تھیں۔آپ کا باران کرم ہر جگہ یکساں برستا تھا۔تمام افرادِ جماعت کے معاملے میں آپ گہری دلچسپی لیتے تھے اور ان کی نجی پریشانیوں اور مالی حالت تک کا آپ کو اندازہ رہتا۔اور جس کو ضرورت مند خیال کرتے اس کی مدد ڈھکے چھپے کرتے رہتے تھے۔کیوں نہ ہوتا آپ ایک مہربان دوست بھی تھے اور ایک مشفق باپ بھی۔ہم عہدہ داروں کی ذرا ذرا کام کی آپ اتنی حوصلہ افزائی فرماتے تھے کہ ہم میں خود اعتمادی پیدا ہوگئی۔افرادِ جماعت کا جوہر خاص‘ شناخت کرنے کا آپ میں بڑا ملکہ تھا۔پھر اس جو ہر کو نکھارنے اور جلا دینے کی آپ ہر ممکن کوشش کرتے۔انہیں نئے نئے مواقع فراہم کرتے اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں بڑا فیاضانہ تعاون کرتے تھے۔ہمارے معمولی سے کام کو آپ اس رنگ میں بیان فرماتے اور ان کو سراہتے کہ ہم خود شرمندہ ہو جاتے۔آپ کی ذرہ نوازی نے ہی مجھے جیسے بیسیوں کمزور اور پر خطا عہدہ داروں کو مرکز سے روشناس کرایا۔ورنہ من آنم کہ من دانم۔زندگی کی تلخیوں کو خوشیوں میں بدلنا آپ کے لئے مشکل نہ تھا۔آپ خود سنجیدہ رہتے تھے۔لیکن دوسروں کو مسکراتا دیکھنا پسند کرتے تھے۔آپ ہر محفل اور مجلس کی روح رواں تھے۔افراد جماعت اور دیگر آپ سے میل ملاقات رکھنے والے آپ سے بے حد بے تکلف تھے۔اٹھنے بیٹھنے میں جیسے آپ خود بے تکلف تھے دوسروں کو بھی آپ ویسا ہی بے تکلفی کا موقعہ دیتے تھے۔اور ملاقات کے کسی طریق پر آپ کو اعتراض نہ ہوتا تھا۔ایک دفعہ ( مشہور مزاح نگار ) مجید لاہوری مرحوم نے اپنے کسی دوست کو رقعہ دے کر بھیجا۔گو اس کا کام تو ہو گیا لیکن ادھورا رہا۔اس لئے وہ دوست پھر آیا اور مجید لاہوری صاحب کا یہ مزاحیہ فتویٰ لایا براہِ کرم اس کا کام تمام کر دیں۔“ میرے نزدیک آپ کی کراچی جماعت کی ہی خدمات ایک ایسا لا فانی ترکہ ہے جسے اگر صحیح معنوں میں اپنایا جائے تو جماعت کراچی انشاء اللہ تعالیٰ اپنا وہ مقام جسے خلیفہ وقت کی خوشنودی حاصل ہے، قائم رکھ سکے گی۔