تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 474 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 474

تاریخ احمدیت 474 جن دنوں آپ حیدر آباد سندھ میں متعین تھے جناب اختر انصاری صاحب کے منشاء سے ایک شخص کو ملا زمت دلوانے کے لئے میں حیدر آباد پہنچا اور آپ کے پاس جانے سے پہلے آپ سے فون پر بات کی۔آپ ناراض ہوئے کہ جبکہ میں رات سے حیدر آباد پہنچا ہوا ہوں تو آپ کے پاس ٹھہر نے کی بجائے ہوٹل میں کیوں ٹھہرا ہوں۔مجھے معذرت کرنا پڑی۔میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اپنی کرسی کے پاس میرے لئے کرسی رکھوا دی۔اس وقت آپ ایک مقدمہ کی سماعت میں مصروف تھے۔تین چار منٹ کے بعد آپ نے مقدمہ پیش کرنے والے وکیل سے مخاطب ہوکر دریافت کیا کہ آپ کو کتنے عرصہ کی وکالت کا تجربہ ہے۔وکیل نے کہا کہ چار پانچ سال کا۔فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ مہمان آجائے تو رک جانا چاہئے۔جس پر وکیل خاموش ہو گیا اور پھر اجازت لے کر چلا گیا۔پھر میری طرف سے اس شخص کا ذکر ہونے پر آپ نے اس کو ملا زمت دلوا دی۔چوہدری صاحب کے محکمہ کا ایک ملازم رشوت لینے کی وجہ سے معطل ہوا۔اس نے مجھ سے سفارش کروانا چاہی۔میں اسے چوہدری صاحب کے پاس لے گیا کہ آپ اس محکمہ کے افسر اعلیٰ تھے۔آپ نے اسے بلوا کر فہمائش کی۔اور کہا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا۔اور اسے بحال کر دیا۔اس نے پھر رشوت لی اور معطل ہوا۔وہ پھر مجھ سے سفارش کا طالب ہوا۔میں ڈرتے ڈرتے چوہدری صاحب کے پاس گیا۔آپ نے بات سن کر فرمایا۔صہبا اختر ! یہ باز نہیں آتا۔چونکہ آپ نے سفارش کی ہے اس لئے میں اسے بحال کر دیتا ہوں۔اور اسے شفقت سے بحال کر دیا۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ بہت ہی دوست پرور غریب نواز اور اعلیٰ ظرف انسان تھے۔اور بہت ذرہ نواز۔حالانکہ میری کوئی دینی یا دنیوی حیثیت نہ تھی۔فرمایا کرتے تھے کہ کسی کی رزق ماری نہیں کرنی چاہئے۔بلکہ لوگوں کی بہتری کا خیال رکھنا چاہئے۔“ جلد ۲۰ کراچی میں تشریف آوری کے پہلے سال ہی آپ کو امیر جماعت احمدیہ کراچی منتخب کر لیا گیا۔اور تا وفات آپ ہی اس عہدہ پر فائز رہے۔حتی کہ جن دنوں آپ کا تبادلہ حیدرآبادسندھ ہو گیا اس وقت بھی آپ ہی امیر مقرر ہوئے۔آپ کے گیارہ سالہ دور قیادت میں خدا کے فضل و