تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 473 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 473

تاریخ احمدیت 473 جلد ۲۰ متروکہ جائیداد کے سلسلہ میں مولوی عبدالقدوس صاحب بہاری اس ہیئت میں آپ کی خدمت میں پہنچتے کہ سید نا حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کی کوئی کتاب ان کی بغل میں ہوتی اور وہ اسے سامنے میز پر رکھ دیتے۔آپ ان کا کام کر دیتے۔کسی نے عرض کیا کہ یہ صاحب تو احمدیت کے شدید معاند ہیں۔فرمایا دیکھتے نہیں کہ کتنا بڑا واسطہ دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میں ان کا کام کر دیتا ہوں۔اپنے محکمہ کے ملازمین سے نہایت شفقت بھرا سلوک کرتے ، ان سے چشم پوشی کرتے اور ان کی مشکلات دور کر کے روحانی مسرت محسوس کرتے تھے۔نہایت اعلیٰ درجہ کے مقرر اور فن گفتگو کے ماہر تھے۔طبیعت میں نہایت درجہ مزاح تھا۔اور کلام برجستہ اور شگفتہ تھا۔زندہ دلی سے ہر مجلس پر چھا جاتے تھے۔خود بھی قادر الکلام شاعر تھے۔سید محمد جعفری ، ضمیر جعفری، ادیب سہارنپوری ، ظریف جبل پوری ، راغب مراد آبادی ، صہبا اختر اور جناب شوکت تھانوی جیسے مایہ ناز شعراء اور ادباء آپ کی مجالس میں شرکت کیا کرتے تھے۔اسی طرح دانشور، تاجر، صحافی، سیاست دان، ایک اشارے پر کھنچے چلے آتے تھے۔ان کی یہ مقناطیسی کشش اونچے طبقوں تک ہی محدود نہ تھی۔کراچی کے عوامی حلقے بھی آپ کے مداحوں میں شامل تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تالیف و تسخیر قلوب کا ایک نسخہ دیا ہوا تھا کہ جو ان سے ملتا انہی کا ہو کے رہ جاتا۔یہ نسخہ دراصل بے غرض جذبہ خدمت خلق اور ایک دردمند دل کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ایک غیر از جماعت دوست اور نامور شاعر پاکستان جناب صہبا اختر صاحب تحریر فرماتے ہیں :- میں ۵۰ - ۱۹۴۹ء میں اپنی شاعری کے وقت نو عمر تھا اور مالی لحاظ سے مفلوک الحال بھی۔ایک روز شام کو نگار ہوٹل میں شعرائے کرام کا ڈنر تھا۔جناب حفیظ صاحب ہوشیار پوری میرے پاس آئے اور کہا کہ میں اپنا کلام اس تقریب میں ساتھ لے چلوں۔وہاں جناب اختر انصاری نے میرا تعارف چوہدری عبداللہ خاں صاحب سے کروایا جو اس روز مہمانِ خصوصی تھے۔آپ کا تعلق آخر تک اس محفل سے قائم رہا۔میں مالی تنگی کے باعث بے حد فلاکت زدہ تھا۔چنانچہ ایک ایسی نشست میں جناب حفیظ صاحب موصوف نے آپ سے میرا ذکر کیا اور آپ نے مکرم شیخ اعجاز احمد صاحب کے ذریعہ محکمہ خوراک میں مجھے ملازمت دلوا دی جس سے میری مالی حالت بہتر ہو گئی۔