تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 469
تاریخ احمدیت 469 جلد ۲۰ حضرت چوہدری محمد عبداللہ خان صاحب آخر ۱۹۳۸ء سے مئی ۱۹۴۷ء تک جمشید پور (بہار) کی مشہور عالم کمپنی ٹاٹا آئرن اینڈ سٹیل ملز میں ٹاؤن سپرنٹنڈنٹ کے اعلیٰ منصب پر فائز رہے آپ کے سپرد کمپنی کے ملازموں کو رہائشی مکانات الاٹ کرنا تھا۔آپ کا شمار چوٹی کے افسروں میں ہوتا تھا اور آپ بلا تفریق مذہب و ملت اپنے اثر سے ملازمتیں دلوانے کی بھر پور کوشش کرتے تھے۔جب آپ کی وفات کی اطلاع جمشید پور کے ڈاکٹر پی سی بسواس بنگالی اور سردار سمرن سنگھ جی لکھاری پنجابی کو ہوئی تو دونوں زار زار رونے لگے۔آپ کے یہاں تلاش روزگار یا کسی اور کام کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا رہتا اور لوگ ڈیرہ لگا کر مہینوں اس طرح بیٹھ جاتے گویا وہ اس خاندان کے افراد ہیں اور آپ افراد خانہ ہی کی طرح نہایت وسعت قلبی اور عالی ظرفی سے ان کے قیام و طعام کا اہتمام فرماتے تھے۔غرباء کی امدا د مخفی رنگ میں کرتے تھے۔آپ نے پنجاب میں ایک قیمتی جائیداد فروخت کی اور اس کی خطیر رقم جمشید پور کے غرباء میں تقسیم کر دی۔ایک بار حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے ذریعہ ایک ہزار روپیہ سے تپ دق کی دوا تیار کرائی اور تاکید فرمائی کہ یہ غرباء کو مفت دی جائے۔ایک دفعہ ٹاٹا کمپنی کے ایجوکیشن افسر نے سازش کر کے ٹاٹا ہائی سکول کے مسلمان ہیڈ ماسٹر اختر احمد صاحب آف پٹنہ کو موقوف کر دیا۔حضرت چوہدری صاحب اس مظلوم کی فریا درسی کے لئے کمپنی کے جنرل مینیجر سر جہانگیر گاندھی کے پاس خود پہنچے اور تفصیل بتائی انہوں نے اسی وقت ہدایت جاری کی کہ اختر صاحب کو فوراً بحال کر دیا جائے اور کوئی مخالفانہ کا رروائی بھی نہ کی جائے جس پر ہر طرف حیرانی کی لہر دوڑ گئی کہ یہ کام کیسے ہو گیا ؟ سب کہتے تھے کہ گاندھی جی تک رسائی صرف چوہدری صاحب کے لئے ممکن ہے کسی اور کا یہ کام نہیں ہے۔قیام جمشید پور کے دوران آپ پہلے تو جمشید پور کی جماعت احمدیہ کے امیر منتخب ہوئے پھر امیر صوبائی بہار کے منصب پر ممتاز ہوئے اور اپنے حسنِ انتظام، حسنِ عمل اور خداداد قابلیت سے جماعت کے ہر فرد خصوصاً نوجوانوں میں زبر دست روح عمل بھر دی اور یہ اور اس کی ذیلی مجالس صف اول کے معیار پر آگئیں۔مولانا محمد سلیم صاحب سابق مجاہد بلاد عربیہ تحریر فرماتے ہیں :- آپ نے اپنے زمانہ قیام جمشید پور میں بار بار وہاں وسیع پیمانے پر تبلیغی جلسے منعقد کئے اور ان موقعوں پر مجھے ہمیشہ یاد فرمایا اور میں بھی بصد ذوق وشوق ان میں شامل ہوتا اور تقاریر کرتا رہا۔وہاں طوفانی مجالس مذاکرہ