تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 468
تاریخ احمدیت 468 جلد ۲۰ میں ہر مذہب کے نمائندوں نے ووٹ دیئے۔اس طرح آپ کے حق میں ۱۴ اور آپ کے خلاف صرف ایک ووٹ تھا۔یہ کامیابی صوبہ بھر میں غالباً اپنی آپ ہی نظیر ہے۔کہ کمیٹی نے ازخود اپنے ایگزیکٹو افسر کی لیاقت وحسن انتظام کی داد دی۔اور ہر پہلو سے اس کی قابلیت کو تسلیم کرتے ہوئے گورنمنٹ عالیہ سے سفارش توسیع میعاد و ایزادی تنخواہ کی کی۔جہاں ہم چوہدری صاحب موصوف کو ان کی شبانہ روز محنت ، ان کی قابلیت اور لیاقت، ان کے حسن انتظام و تدبر، ان کی شرافت اور دیانتداری پر مبارک باد پیش کرتے ہیں وہاں ہندو مسلم پبلک اور نمائندگان یعنی میونسپل کمشنر صاحبان کو مبارک باد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی فرض شناسی کا ثبوت دے کر پبلک کو شکر گزار کیا۔“ ۵۲ 66 اس شاندار کامیابی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ اس دور کے اخبارات سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں ملک بھر میں میونسپل کمیٹیوں کی سخت ابتر حالت تھی اور کئی بڑے بڑے شہروں کی میونسپلٹیاں اپنی بدانتظامی اور فرقہ واریت کے باعث توڑی جارہی تھیں چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب و امرتسری نے اخبار اہلحدیث ۶ / مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ا پر ملکی مطلع کے عنوان سے لکھا: - گورنمنٹ نے از راہ کرم گستری ہندوستان کو حکومتِ خود اختیار کی پہلی منزل میونسپلٹی کی شکل میں بنا کر دی تھی جس کو بطور مثال پرائمری سکول کہا جائے تو بجا ہے۔انصاف اور حق یہ ہے کہ ہندوستانی اس پرائمری درجے میں بری طرح فیل ہو گئے۔میونسپلٹیوں کو اگر آئندہ سوراج کا نمونہ سمجھا جائے تو انگریزوں کا قول صحیح ثابت ہوتا ہے کہ ہند وستانی حکومت کے لائق نہیں۔کمیٹیوں میں اس قدر فرقہ داری اور ذاتی اغراض کا غلبہ رہتا ہے کہ دیکھنے اور سننے میں بڑا فرق ہے۔گزشتہ ایام میں بنارس کی کمیٹی گورنمنٹ نے توڑ دی تھی۔اب تازہ خبر آئی ہے کہ سیالکوٹ کی بلد یہ بھی توڑ دی گئی۔ہمارا اندازہ ہے کہ ادائیگی فرض کے لحاظ سے امرتسر کی بلدیہ سے زیادہ غافل۔۔۔کوئی اور بلدیہ نہ ہوگی۔۔گورنمنٹ امرتسر کی بلدیہ کو بھی (خواہ عارضی طور پر ہی سہی ) بلد یہ سیالکوٹ کی طرح توڑ کر اس کا انتظام کسی افسر کے سپر د کر دے تو اہالی شہر پر بڑا احسان ہو۔“