تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 470 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 470

تاریخ احمدیت 470 بر پا ہوا کرتیں اور بڑے سلیقہ اور مدبرانہ رنگ میں احمدیت کا پیغام پہنچایا جاتا۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ کوئی ایسا لطیفہ چھوڑ دیتے کہ جس سے ساری مجلس زعفران زار بن جاتی اور پژمردہ چہرے بھی خوشی سے کھل اٹھتے۔جلد ۲۰ حضرت چوہدری صاحب پیغام حق پہنچانے میں بہت کوشاں رہتے تھے۔ایک بار آر نے انگریز جنرل مینیجر کی زیر صدارت انگریزی میں نہایت روانی کے ساتھ ( دین حق ) کے بارہ میں تقریر فرمائی۔جلسہ گاہ تمام انگریز افسران ان کی خواتین اور انگریزی دان بنگالی اور مدراسی افسروں سے بھرا ہوا تھا۔سب نے آپ کی اثر انگیز تقریرسنی اور بہت محظوظ ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد محکمہ بحالیات کا قیام عمل میں آیا تو اپنی ذاتی صلاحیت و قابلیت اور انتظامی خوبیوں کے باعث آپ ایڈیشنل کلیمز کمشنر مقرر ہوئے اور پاکستان کا پہلا دارالسلطنت کراچی آپ کا ہیڈ کوارٹر قرار پایا جہاں آپ کم و بیش بارہ سال تک قومی اور دینی فرائض کی بجا آوری کے جہاد میں سرگرم عمل رہے۔آپ کے دفتر میں پناہ گزینوں کا ہجوم رہتا۔آپ ہر فرقہ کے مہاجرین کی شکایت نہایت ٹھنڈے دل سے سنتے اور ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔دوسرے دفتروں کی طرح آپ کے دفتر میں یہ طریق رائج نہ تھا کہ نام اور کام لکھ کر ملاقات کی اجازت لی جائے۔آپ کے دفتر کا اردلی کہتا تھا کہ بلا کھٹکے اندر چلے جائیے یہ دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمد یہ کراچی کا چشمد ید بیان ہے کہ :- آپ بے نفس انسان تھے۔باوجود ایڈیشنل کسٹوڈین ہونے کے جبکہ دوسروں کو جائیدادوں وغیرہ کی الاٹمنٹ کا کام آپ کے محکمہ سے ہوتا تھا اور آپ کو ایسا اختیار حاصل تھا ) آپ نے کوئی جائیداد نہیں بنائی۔آپ کی کوئی اپنی جگہ رہائش کے لئے نہ تھی۔آپ کبھی کہیں اور کبھی کہیں قیام رکھتے تھے۔چند ماہ آپ کا قیام سنٹرل ہوٹل میں رہا۔زیادہ عرصہ آپ ہاؤسنگ سوسائٹی میں مقیم رہے۔“ ”یہ اللہ تعالی کا خاص فضل تھا کہ آپ بے شمار اوصاف حمیدہ کیے مالک تھے۔بہت صابر اور بردبار اور حلیم طبیعت آپ نے پائی تھی۔آپ کا افضل ترین خلق ہمدری خلائق اور خدمت خلق