تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 466
تاریخ احمدیت 466 مستقل فرض بنا رکھا ہے۔اور آئے دن غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا چوہدری صاحب موصوف کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔تا کہ کسی طرح پبلک اور افسروں کو بدظن کر سکیں۔لیکن بفضل خدا ہر دفعہ ان کو ذلت و نا کامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔علا وہ اس کے کہ وہ اعلیٰ افسران جنہوں نے میونسپلٹی کا معائنہ چوہدری صاحب کے وقت میں کیا نہایت شاندار الفاظ میں چوہدری صاحب کی تعریف کی ہے۔پنجاب گورنمنٹ نے اپنے ریویو میں جن کمیٹیوں کا خصوصیت سے ایگزیکٹو آفیسرز صاحبان کے زیر انتظام ترقی کرنے کا ذکر کیا ہے وہ رو پڑ اور قصور کی کمیٹیاں ہیں۔اور ان دونوں کمیٹیوں کی باگ ڈور یکے بعد دیگرے چوہدری صاحب موصوف کے ہاتھ میں رہی ہے۔آڈیٹر صاحبان اور افسرانِ اعلیٰ نے ہمیشہ چوہدری صاحب موصوف کی دیانت وامانت اور محنت اور جانفشانی کی داد دی ہے اور انتظام کمیٹی میں نہایت قابل قدر تبدیلی اور ترقی کا اقرار کیا ہے۔امسال جبکہ چوہدری صاحب موصوف نے تخمینہ بجٹ سالانہ ۳۶ - ۱۹۳۷ء تیار کر کے گورنمنٹ کو بھجوایا اور اس کی نقل کمیٹی کو بھیجی تو سب کمیٹی مال نے بدیں الفاظ جنرل کمیٹی کو سفارش کی کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب نے بجٹ میں اپنی موجودہ تنخواہ کا گریڈ بھی درج کیا ہے۔چوہدری صاحب کی میعاد یگزیکٹو آفیسری ۲۴ راگست ۱۹۳۶ء کو ختم ہونے والی ہے۔اور چونکہ چوہدری صاحب نے اپنے عرصہ ملازمت میں نہایت محنت و دیانتداری اور جانفشانی سے کام کیا ہے اور کمیٹی کے تمام شعبہ جات میں بے حد اصلاح کی ہے۔کمیٹی کے تمام قرضہ جات اپنے حسنِ انتظام سے ادا کر کے ایک کافی رقم خزانہ کمیٹی میں جمع کر دی ہے۔پبلک کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ مدنظر رکھا ہے۔معائنہ کرنے والے افسران اور محکمہ آڈٹ نے ہمیشہ چوہدری صاحب موصوف کی تعریف کی ہے۔لہذا سب کمیٹی چوہدری صاحب کے متعلق کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جنرل کمیٹی کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ گورنمنٹ عالیہ سے سفارش کرے کہ لیفٹیننٹ چوہدری عبداللہ خان صاحب کی میعاد میں تین سال کی مزید توسیع اسی جگہ کی جائے اور ان کو ۳۵۰ روپے ماہوار تنخواہ اور ۳۰ روپے سالانہ ترقی دی جائے جلد ۲۰