تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 464
تاریخ احمدیت 464 بتا اے خالقِ ارض و سماء کس کام آوے گی میری ہستی کہ اک دھبہ سا ہے دنیا کے دامن میں میری ہستی کس کام آ سکتی ہے۔جس کا عدم اور وجود برابر ہیں۔کیا اس کے کسی فعل کو بھی آپ نظر انداز نہیں فرما سکتے۔کاش کہ میرا جسم حضور کے متبرک اور پاک قدموں میں تڑپ رہا ہوتا اور میں اسی حالت میں اپنے خالق و مالک حقیقی سے جا ملتا۔وہ کون بے ایمان منافق ہے جس کو احمدی ہو کر آپ کی ذات سے عشق نہیں۔یہ علیحدہ امر ہے کہ آپ کا رعب اظہار کی اجازت نہ دے۔میں گو برے اعمال کی وجہ سے آپ کے حضور بہت کم آیا اور جب حاضر ہوا خاموش رہا اور مجھ کو طاقت ہی نہ ملی کبھی اک صحیح فقرہ ہی کہہ سکوں مگر جتنا عشق مجھے حضور کی ذات سے ہے وہ کچھ میں ہی جانتا ہوں۔افسوس کبھی تحریر میں ہی ظاہر کرنے کی جرات ہوتی۔میری انتہائی خواہش یہی ہے کہ خدا کرے میں ضرور بالضرور جان حضور کے قدموں میں دوں۔“ والسلام خادم عبد اللہ خان ۵۱ جلد ۲۰ ۱۹۳۱ء کے قریب آپ کا تقرر قصور شہر کی میونسپلٹی کے ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے ہوا۔یہاں بھی عوام آپ کے اعلیٰ کیریکٹر ، بلند اخلاق اور نیک سیرت سے بہت متاثر ہوئے۔آپ کا دستر خوان بہت وسیع تھا۔کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ بھجوانا پسند نہ کرتے۔بارہا ایسا ہوا کہ کسی شخص سے رقم مستعار لے کر سائل کی ضرورت فوری طور پر پوری کر دی اور بعد میں قرض ادا کر دیا۔آپ احمدی احباب کو اکثر اپنے پاس رکھتے تا نماز با جماعت اور اجتماعی دعاؤں کی توفیق ملتی رہے۔آپ کا معمول تھا کہ قصور سے بذریعہ موٹر کار حضرت مصلح موعود کی زیارت اور ملاقات کے لئے اکثر قادیان تشریف لے جاتے جو حضور کی ذات مقدس سے والہانہ محبت اور شیفتگی کا آئینہ دار ہے۔قصور شہر ان دنوں مخالفت کا گڑھ اور شعلہ جوالہ بنا ہوا تھا۔مجلس احرار آپ کے خلاف دن رات جھوٹے پراپیگینڈا میں مصروف رہتی تھی اور اسے میونسپلٹی کے پریذیڈنٹ کی سرپرستی حاصل تھی۔اس سلسلہ میں فروری ۱۹۳۶ء میں میونسپلٹی کی جنرل میٹنگ کا ایک اجلاس معرکہ آراء ثابت ہوا جبکہ