تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 435
تاریخ احمدیت 435 ہو جاتا کہ مزید کسیر یا کھوری کی ضرورت ہے۔کسیر جو ہڑوں کے کناروں سے اور کھوری کماد کی فصل سے حاصل ہوتی تھی۔ہمارے ہاں چاول کی فصل ان دنوں زیادہ نہیں ہوتی تھی اس لئے پرالی مہیا نہیں ہوسکتی تھی۔حضرت میاں عظیم اللہ صاحب کئی مرتبہ ۲۴ یا ۲۵ دسمبر کے دن چالیس چالیس پینتالیس پینتالیس آدمیوں کے سروں پر گٹھے رکھوا کر ان کو قادیان روانہ کر دیتے اور سلسلہ کی ضرورت پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے۔حضرت میاں عظیم اللہ صاحب نے اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولادوں کے تقریباً ۲۴ کے قریب قیموں کی پرورش میں انتہائی کوشش اور محنت کی۔ایک عرصہ تک حضرت میاں عظیم اللہ صاحب تینوں گاؤں کے سر براہ نمبردار تھے۔کیونکہ ان کے بھائیوں کے بیٹے جو نمبرداری کے حقدار تھے اور بہن کے بیٹے جو وہ بھی نمبرداری کے حقدار تھے وہ اپنے والدین کے فوت ہو جانے کی وجہ سے نابالغ رہ گئے تھے ان کی بلوغت تک حضرت میاں صاحب ان کی زمینوں اور جائیدادوں کی نگہداشت اور انتظام نہایت ایمانداری اور کوشش سے کرتے رہے۔ان کی تعلیم کا بھی بندوبست کیا۔ان کی شادیوں کا بھی انتظام کیا اور بعض کی ملازمتوں کا بھی بندو بست کیا۔ان کے بالغ ہونے پر ان کی زمینیں اور جائیدادیں وغیرہ ان کے سپرد کر دیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کو اس کی بہترین جزا د یوے۔اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔۱۹۴۷ء کے تقسیم ملک کے بعد خاکسار کچھ عرصہ تک حکومت پاکستان کی خواہش کے مطابق ضلع شیخوپورہ میں پہلے چوہڑکانہ میں اور بعد میں مانانوالہ میں میڈیکل آفیسر تعینات رہا۔جہاں پر ان دنوں مہاجرین بڑی تعداد میں آکر مہاجرین کے کیمپوں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ان کے علاج اور ان کی غذا وغیرہ کا بھی دیگر موقع پر موجود افسران سے مل کر انتظام کرنا ہوتا تھا۔وہاں پر حضرت میاں عظیم اللہ صاحب بھی خاکسار کے ہمراہ ہی تشریف فرما تھے اور ہمارے پرانے علاقہ سے کئی ایک احباب خاکسار کی وہاں پر تعیناتی کا سن کر آکر کئی کئی یوم بطور مہمان ٹھہرتے رہے اور باوجود اس بات کے کہ ہم لوگ بھی بطور مہاجر پاکستان میں آئے تھے حضرت میاں صاحب سب کی پورے جلد ۲۰