تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 434 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 434

تاریخ احمدیت 434 حضرت عبدالمغنی صاحب، حضرت میر محمد اسحاق صاحب، حضرت مولوی فرزند علی صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے ساتھ تھے۔خاکسار کے قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہمیشہ اپنی عربی نسل کی گھوڑی جو کہ سرگودھا ریماؤنٹ ڈپو سے ان کے چھوٹے بھائی (میاں سمیع اللہ صاحب نے جو سرگودھا میں زراعت کے بڑے افسر تھے ) نے خرید کر بھیجی تھی اس پر سوار ہو کر قادیان جاتے تھے۔۔سلسلہ کے تمام مہمان ہمیشہ حضرت میاں عظیم اللہ صاحب کے ہاں ہی ٹھہرتے اور آپ ان کے لئے ہر قسم کی سہولیات مہیا کر کے مہمان نوازی کر کے خوشی محسوس کرتے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب عام طور پر دورہ پر تشریف لے جاتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت نواب محمد الدین صاحب بھی داعی الی اللہ کے پروگرام کے سلسلہ میں ۱۹۴۵ء کے شروع میں ہمارے ہاں تشریف لے گئے۔خاکسار تو ان دنوں فوجی خدمات کے سلسلہ میں قاہرہ (مصر) میں تعینات تھا۔اسی سال مکرم و محترم حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جو ان دنوں فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے جج تھے انگلستان سے واپس تشریف لاکر راستہ میں قاہرہ بھی ٹھہرے اور ہمارے فوجی میس میں جو قاہرہ میں ۱۵ انڈین ہاسپیٹل کا تھا ایک رات ڈنر پر مدعو تھے۔وہاں پر ہی حضرت چوہدری صاحب نے اپنے فیض اللہ چک خاکسار کے ہاں جانے کا ذکر فرمایا۔جہاں حضرت میاں عظیم اللہ صاحب اور ان کی والدہ محترمہ نے ان کی مہمان نوازی فرمائی ملکی تقسیم کے موقع پر بڑی بہادری سے حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور خطر ناک سے خطرناک جگہ پر بے دھڑک اپنی چھڑی لے کر چلے جاتے۔ان کے تعلقات اردگرد کے علاقہ میں بڑے وسیع تھے۔ویسے مسلمانوں کے علاوہ بیشتر سکھ گھرانے عیسائی اور ایک گھر ہندو پنڈتوں کا بھی جس کے سربراہ کا نام چونی لال تھا ہمارے خاندان کی زمینوں پر مزارع تھے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں اپنے ہاں سے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی سہولت کے لئے کافی کسیر اور کھوری بھجواتے۔کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ جلسہ سالانہ کے انتظامات کے آخری وقت میں حضرت میر محمد الحق صاحب کی طرف سے پیغام موصول جلد ۲۰