تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 436 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 436

تاریخ احمدیت 436 جلد ۲۰ طور پر مہمان نوازی کرتے رہے اور سب کی ہر قسم کی ضروریات مہیا کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس میں خوشی محسوس کرتے تھے۔سب کی ڈھارس بندھاتے تھے اور ہر قسم کی امداد کر دیتے تھے۔“ اپریل ۱۹۴۸ء میں خاکسار ساہیوال آ گیا تو کچھ عرصہ کے بعد حضرت میاں عظیم اللہ صاحب بھی یہاں ہی تشریف لے آئے۔نیز تحریر فرماتے ہیں :- ۱۹۳۴-۳۵ء کے سالوں میں جماعت احمدیہ کے بعض وفود اردگرد کے دیہات میں دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں جایا کرتے تھے۔اسی دوران ایک وفد جس میں مکرم حامیم صاحب ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس اور مکرم ملک فضل کریم صاحب جو فیض اللہ چک کے رہنے والے تھے اور وطن ہائی سکول لاہور میں ٹیچر تھے اور مکرم قاضی کریم اللہ صاحب ( جو خاکسار کے چچا تھے ) اور میاں عظیم اللہ صاحب کے چھوٹے بھائی اور بعض اور دوست جمعہ کے روز ایک گاؤں ظفر وال میں (جو دھار یوال سے تقریباً ڈیڑھ میل پر واقع تھا) پہنچے۔اس وقت جمعہ کی نماز کا وقت ہو رہا تھا ان لوگوں نے اس گاؤں کی مسجد میں اذان دی اور نماز کی تیاری کرنے لگے۔تو اس گاؤں کے سکھ مسلح ہو کر آگئے اور دریافت کیا کہ اذان کیوں دی گئی ؟ ہماری عورتوں اور بچوں پر اس کا برا اثر ہوتا ہے۔مگر یہ معلوم ہونے پر کہ بعض افراد نزد یکی گاؤں فیض اللہ چک کے ہیں صرف دھمکیوں پر اکتفا کر کے چلے گئے۔نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد جب یہ احباب فیض اللہ چک پہنچے تو اس واقعہ کی اطلاع حضرت میاں عظیم اللہ صاحب کو دی۔ان کو بڑا افسوس ہوا کہ اس گاؤں میں لوگوں کو خدا تعالیٰ کا نام لینے سے روکا ہوا ہے۔چنانچہ میاں صاحب اس گاؤں میں گئے اور امام مسجد میاں خیرالدین صاحب کو مل کر حالات دریافت کرنے کے بعد ان کو حوصلہ دلایا کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔آپ اپنے سب مسلمان بھائیوں کو منظم کریں۔یہ یادر ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔میاں خیرالدین صاحب نے ان اپنے ساتھیوں کو منظم کرنا شروع کیا۔اسی دوران بیساکھی کے میلہ