تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 432
تاریخ احمدیت 432 جلد ۲۰ اولاد محفوظ رکھا۔ان دنوں میں آپ کا رسالہ انبالہ چھاؤنی میں مقیم تھا اور صدہا افراد نے آپ کے یقین اور ایمان سے بھرے ہوئے اعلان کو اور پھر اس کے نتیجہ کو بھی دیکھا۔موضع فتح پور کا ہی ایک ایمان افزاء واقعہ ہے کہ ایک بار چند شریر مخالفین کی شہ پر غیر احمدیوں نے ایک مخالفانہ جلوس نکالا جس میں گاؤں کے چند بھانڈوں کی جو شادی بیاہ کے موقعہ پر باجہ بجانے کا کام کرتے تھے ) خدمات حاصل کی گئیں۔جو گاؤں میں باجہ کے ساتھ گندے شعر پڑھتے ہوئے آپ کے دروازہ کے سامنے سے گزرے اور آپ کی اہلیہ محترمہ سیدہ فاطمہ بیگم مرحومہ نے ان لوگوں کی اس نازیبا حرکت پر ان کو سخت زجر کی اور سیدہ مرحومہ نے کہا کہ تم نے خدائے پاک کے مقدس مسیح کی محض از راہ ظلم توہین کی۔اللہ تعالیٰ تم کو سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔اس کے بعد چاروں بھانڈ جو آپس میں بھائی بھائی تھے یکے بعد دیگر لقمہ طاعون ہو گئے۔جب مرنے والوں کی ماں نے دیکھا کہ یہ بلائے آسمانی سیدہ مرحومہ کی بددعا کے نتیجہ میں ان پر پڑی ہے تو وہ انتہائی کرب کی حالت میں واویلا کرتی ہوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور جہلاء کی طرز پر آپ کے قدموں میں گر پڑی۔اور کہنے لگی کہ ہمیں اس مصیبت سے بچالے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ساری مصیبت ہم کو آپ کی بددعا سے پیش آئی ہے اس پر سیدہ مرحومہ نے فرمایا کہ تم آئندہ کے لئے مصائب سے بچنا چاہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، ۱۴ ۱ - سید محمد خلیل صاحب نیوی آفیسر ۲ - سید محمد جلیل صاحب راولپنڈی ۷۔حضرت قریشی غلام محی الدین صاحب دولت پور ضلع سیالکوٹ ولادت ۱۸۸۱ء بیعت ۱۹۰۸ء وفات ۲۵ ستمبر ۱۹۵۹ء۔) بیعت سے تادمِ واپسیں سلسلہ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت کے