تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 431
تاریخ احمدیت 431 پیش آتے۔تبلیغ کے علاوہ آپ کے خسر اور آپ کا ذاتی وقار اور مومنانہ اخلاق مقامی جماعت کی ترقی کا باعث بنا۔اس میں آپ کی مرحومہ اہلیہ بھی برابر کی شریک تھیں۔قادیان سے آنے جانے والے مہمانوں مبلغوں اور بزرگوں کی ہر رنگ میں خدمات سرانجام دینا آپ کے خاندان کا طرہ امتیاز آپ کی زندگی کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۱۱ء میں شہنشاہ جارج پنجم کی تاج پوشی کے سلسلہ میں آپ کا رسالہ بھی دہلی میں مقیم تھا کہ رسالہ کے بعض سائیسوں نے ایک توپ کے گولہ کو ناکارہ سمجھ کر اسے اپنے کسی مصرف میں لانے کی کوشش کی۔اور اس میں اپنی بے وقوفی سے آگ لگادی۔جو بڑے زور سے آپ کے خیمہ کے سامنے پھٹ گیا اور کئی آدمی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے خیمہ کو بال بال بچا لیا۔اس پر آپ نے اپنے ساتھیوں کی حیرانی کو دیکھ کر فرمایا کہ ہمارا اور ہمارے خیمہ کا معجزانہ طور پر بچ جانا ہمارے حضرت اقدس مسیح موعود کے ایک مشہور الہام اور بشارت کے نتیجہ میں ہے جس میں دائمی مژدہ سنایا گیا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ آپ کے اس الہام الہیہ کی تفصیل سنانے پر رسالہ کے ایک افسر رسالدار چوہدری حاکم علی صاحب از حد متاثر ہوئے۔اور آپ سے سلسلہ کے لٹریچر اور حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کی خواہش کا اظہار کیا اور تحقیق وتسلی کے بعد سلسلہ حقہ میں شامل ہو گئے۔آپ نے اپنی ملازمت کے اثناء میں رسالہ کے اندر اور شہر میں طاعون کی ہولناک تباہی کو دیکھ کر اپنے زبر دست ایمان اور یقین کی بناء پر بار بار یہ اعلان کیا کہ انشاء اللہ خدا تعالیٰ مجھ کو اس مرض سے محفوظ رکھے گا۔اور میرا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا یہ عظیم الشان نشان ہے کہ آپ کا کوئی مخلص مرید اس مرض سے ہلاک نہ ہو گا۔آپ کے اس اعلان کے پیش نظر آپ کے رسالہ کے اکثر افراد آپ کے خیمہ میں پناہ گزیں رہے۔اور ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس مرض سے جلد ۲۰