تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 424
تاریخ احمدیت 424 د میں نے بچپن میں ۲ - ۱۹۰۱ء میں حضرت بزرگ صاحب مولانا عبدالستار صاحب کا بلی مہاجر کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت خط لکھ کر کی تھی۔اس وقت میرے والد صاحب ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے۔حضرت مولانا سید عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد ۱۹۰۴ء میں میں قادیان چلا آیا۔اور قریباً دو اڑھائی سال میں پہلی دفعہ یہاں آیا۔اس کے بعد میرے والد صاحب مجھے واپس لے جانے کے لئے یہاں آئے۔اور اس کے لئے مجھے کہا۔میں نے عذر کیا۔انہوں نے سید احمد نور صاحب کاہلی کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اسے میرے ساتھ وطن سابق کی طرف جانے کا ارشاد فرمایا جائے۔چنانچہ حضور نے مجھے اس بارہ میں ارشاد فرمایا جس پر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ وطن سابق کی طرف چلا گیا۔میرے والد صاحب نے اسی سفر میں حضور کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور میں نے حضور کی بیعت دستی طور پر پہلی دفعہ یہاں آنے پر ۱۹۰۴ء میں کی تھی۔میں وطن جا کر صرف چند مہینے وہاں رہا۔اور پھر واپس دارالامان چلا آیا۔جب میں دوسری بار یہاں پہنچا تو اس وقت بیت مبارک کی توسیع ہو چکی تھی۔میرے پہلے قیام دارالامان کے عرصہ میں اور کچھ دوبارہ قیام کے وقت میں جب حضور کسی سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو پہرہ اور خدمت کے لئے میں بھی اکثر حضور کے ساتھ یا حضور کے سامان کے ساتھ جایا کرتا تھا۔چنانچہ حضور کے آخری سفر لاہور کے موقعہ حضور کی رتھ (جو حضرت نواب صاحب نے حضور کی خدمت میں پیش کی لے کر مع چند اور ہمراہوں کے لاہور گیا تھا۔اور جب حضور کی وفات ہو گئی تو میں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت کو یاد کر کے حضور کے چہرہ مبارک کا بوسہ لیا۔حضور کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد پھر میں ایک دفعہ اپنے وطن سابق کی طرف گیا اور دوبارہ بھی صرف چند مہینے وہاں رہ کر واپس چلا آیا۔اور یہاں پہنچ کر حضرت خلیفہ اسیح اول کی خدمت میں رہ کر پڑھنا شروع کر دیا۔اس کے بعد میں اپنے سابق وطن کی طرف نہیں گیا۔حضور کی زندگی میں کچھ عرصہ میں بیت مبارک میں پہرہ کا کام بھی کرتا رہا ہوں۔اور جلد ۲۰