تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 425
تاریخ احمدیت 425 جلد ۲۰ نوٹ لکھا : - جن ایام میں حضور ۱۹۰۵ء میں اہلِ خانہ اور اصحاب الصفہ کو ساتھ لے کر باغ میں قیام فرما رہے تھے اس وقت بھی میں مع چند ساتھیوں کے اس خدمت پر متعین تھا۔ان ایام میں ایک دفعہ رات کو سخت تیز آندھی آئی اور بہت دیر تک تیز ہوا چلتی رہی۔حضور مع اہل وعیال ایک سائبان کے نیچے آرام فرما رہے تھے۔حضور نے اس غرض سے کہ سائبان گر نہ جائے فرمایا کہ اس کی تمام چو بوں کو ایک ایک آدمی تھامے رہے ان چوبوں کو تھامنے والوں میں سے ایک میں بھی تھا۔حضور کے جس سفر میں میں حضور کے ساتھ نہیں جاتا تھا اس میں میں حضور کے مکانات کے پہرہ کی خدمت پر متعین ہوتا تھا۔نیز میں اپنے خسر میاں عبد الغفار خان صاحب کا بلی مہاجر مرحوم کے ساتھ مقبرہ بہشتی میں 66 پہرہ کا کام کرتا رہا ہوں۔مولوی محمد شہزادہ خاں صاحب استاذ مدرسہ احمدیہ نے آپ کے حالات زندگی پر حسب ذیل آپ افغانستان کے سمت جنوبی علاقہ خوست کے باشندے تھے۔درگئی نامی گاؤں کے رہنے والے تھے جو حضرت شہید مرحوم صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب کے گاؤں سید گاہ کے قریب واقع ہے۔آپ کے روحانی تقدس کی وجہ سے درگئی کے لوگ کثیر تعداد میں آپ کے مریدین میں شامل تھے اور آپ ہی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں شامل ہو گئے ان میں ہر قسم کے لوگ شامل تھے۔جیسے مولوی احمد نور صاحب کا بلی، حضرت مولوی عبدالستار صاحب عرف بزرگ صاحب، مولوی غلام محمد صاحب وزیر و ملا ، ملک خان بادشاہ سید صاحب وغیرہ۔ان میں منگل کے بعض نیک دل لوگ بھی شامل تھے جیسے ملا عبد الغفار صاحب وملا امیرالدین صاحب عرف میر و صاحب، و بزرگ صاحب و عبداللہ صاحب ولد ملا عبدالغفار صاحب دوگی کے لوگوں کے علاوہ بعض نیک دل بچے بھی احمدیت میں شامل ہو گئے جن میں سے ایک مولوی غلام رسول صاحب افغان بھی تھے۔۱۹۰۴ء میں قادیان آئے۔مگر باپ کے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت سے ماں کی ملاقات کے لئے والد صاحب کے ساتھ خوست واپس چلے گئے۔