تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 423
تاریخ احمدیت 423 جلد ۲۰ اولاد:- پہنچے اور خبریں سنیں۔ازاں بعد صاحب موصوف نے مضمون پڑھنا شروع کیا تو پبلک نے آہستہ آہستہ وہاں سے کھسکنا شروع کیا اور بعض غیر احمدیوں نے ہاہو کے آوازے بھی کسے۔مگر حضرت شیخ صاحب نے نہایت ہی سنجیدگی اور وقار سے مضمون کو پڑھا۔جب مضمون ختم ہوا تو دو تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔مگر شیخ صاحب مضمون کو ختم کئے بغیر نہ رکے۔اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خانقاہ ڈوگراں میں شیخ صاحب کی دکان پر ایک غیر احمدی مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر چند اعتراضات کئے تو مجھے فوراً انہوں نے گھر سے بلایا کہ ان مولوی صاحب کے اعتراضوں کے جواب دیں۔چنانچہ آدھ گھنٹہ تک گفتگو جاری رہی۔حضرت شیخ صاحب کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام والہانہ محبت تھی جس کا ذکر اپنی مجالس میں کیا کرتے تھے۔میں جب بیرون پاکستان میں تبلیغ کے لئے خانقاہ ڈوگراں سے روانہ ہوا تو مجھے کچھ نقدی دی۔اور فرمانے لگے یہ رقم تحفہ دی ہے۔دعاؤں کے ساتھ مجھے روانہ کیا۔حضرت شیخ صاحب تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں شامل تھے۔ނ ۱ - صو بیدار عبدالرحمن صاحب خانقاہ ڈوگراں ضلع شیخو پوره ۲ - محمد نصیر صاحب شوگر ملز لیہ ضلع مظفر گڑھ ۳ - امۃ اللہ صاحبہ (اہلیہ ملک نذیر احمد صاحب پی ایس آئی سیالکوٹ ) ۴ - امتہ الرحمن صاحبہ (اہلیہ قاضی عبدالرشید صاحب ایڈووکیٹ ایبٹ آباد ) - حضرت مولوی غلام رسول صاحب افغان (ولادت بیعت ۱۹۰۲ء ، ہجرت ۱۹۰۴ء ، وفات ۶ مئی ۱۹۵۹ء) آپ قبول احمدیت سے قبل حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی بیعت میں تھے بہت عابد و زاہد بزرگ تھے۔قرآن مجید کی تلاوت سے آپ کو خاص شغف تھا۔آپ کے خود نوشت حالات یہ ہیں :-