تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 370
تاریخ احمدیت 370 جلد ۲۰ تو سالک صاحب بھی تشریف لائے۔کانفرنس کے دوران میں بھی اور اس کے بعد بھی سالک صاحب کی خوش طبعی سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور دیگر اہلِ محفل بار بار مسکراتے اور خوشی کا اظہار فرماتے۔کھانے کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا کہ مہمان حضرات کو ربوہ کے قرب و جوار کے علاقے کی سیر کرائی جائے۔چنانچہ ہم مختلف پہاڑیوں کا چکر لگانے کے بعد ایک کھلی جگہ آ بیٹھے۔ہم لوگ ایک دائرہ میں بیٹھے تھے اور سالک صاحب صدر محفل تھے کہ ایک دوست نے اشعار‘“ کی فرمائش کی ہم نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔آخر میں جب سالک صاحب کی باری آئی تو آپ نے غالباً پہلی دفعہ اپنی وہ مشہور نظم سنائی جو بعد میں تمام بزم سخن کی جان قرار پائی اس کا ایک شعراب بھی بے اختیار میری زبان پر آ رہا ہے۔کبھی ماضی منور تھا اگر ، تو ہم نہ تھے حاضر جو مستقبل کبھی ہو گا درخشاں، ہم نہیں ہوں گے سالک صاحب کی مرنجاں مرنج طبیعت کی وجہ سے ایک عالم ان کا گرویدہ تھا۔جماعت احمدیہ کے درجنوں نہیں سینکڑوں افراد سے ان کے مراسم نہایت دوستانہ تھے اور خود حضور ایدہ اللہ تعالیٰ سے عقیدت کے جذبات ان کے دل میں موجود تھے۔۵۸ - مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مدیر ” الفرقان“ نے تحریر فرمایا : - مولانا سالک مرحوم احمدی والدین کے ہونہار فرزند اور احمدی بھائیوں کے ہمدرد بھائی تھے۔احمدیت کی چاشنی سے انہوں نے کافی حصہ پایا اور نہایت قابلِ شکر یہ حد تک جماعت کی امداد و اعانت بھی کرتے رہے گو وہ با قاعدہ سلسلہ میں داخل نہ تھے۔مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔بہت بڑے ادیب تھے ان کا انتقال ایک بہت بڑا قومی اور ملکی صدمہ ہے۔۴۔تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے رسالہ "المنار" نے حسب ذیل ادارتی نوٹ شائع کیا :- اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ۵۹ 66 حال ہی میں مولانا عبدالمجید صاحب سالک ہم سے جدا ہوئے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ہر مخلص اور ہمدرد ادیب قوم کی متاع عزیز ہوتا ہے۔ایک ایسا ستارہ جس کی روشنی میں قومی کارواں منزل کی طرف بڑھتا ہے۔سالک بھی ایک ایسا ہی ستارہ تھا جو صحافت اور ادب کے آسمان پر پوری تابانی سے جگمگاتا رہا!! یہی وجہ ہے کہ مولانا کی وفات کا صدمہ ملک کے