تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 369
تاریخ احمدیت 369 جلد ۲۰ خدمات کے اعتراف میں پانچ سو روپے ماہوار کا وظیفہ دیا جو آخر تک جاری رہا۔۵۷ مولانا سالک صاحب کے المناک حادثہ ارتحال پر احمد یہ پریس نے نہایت درجہ رنج و غم کا اظہار کیا اور اسے عظیم قومی اور ملی المیہ سے تعبیر کیا۔ا۔جماعت احمدیہ کے مرکزی ترجمان اخبار الفضل“ نے اپنی ۲۹ ستمبر ۱۹۵۹ء کی اشاعت میں آپ کے المناک انتقال کی خبر نمایاں رنگ میں صفحہ اول پر شائع کی۔نیز آپ کی مختصر سوانح اور شاندار علمی اور ملی کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا: - سالک صاحب مرحوم ایک صاحب طرز ادیب، نامور صحافی اور بلند پایہ مصنف ہونے کے علاوہ بہت مرنجان مرنج اور صلح کل انسان تھے۔اور حق بات کو بیان کرنے میں بہت بے باک واقع ہوئے تھے۔ہمدردی خلائق کا جذبہ بھی آپ میں نہایت درجہ تھا۔نیز فطرتاً بذلہ سنج اور ظریف الطبع واقع ہوئے تھے۔جب گویا ہوتے تو باغ و بہار دکھلا دیتے تھے۔ان خوبیوں کی وجہ سے آپ ہر حلقے اور ہر طبقے میں بہت ہر دلعزیز تھے اور بلا امتیاز سب لوگ ہی آپ کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ادارہ الفضل آپ کی وفات کو ایک قومی نقصان قرار دیتے ہوئے آپ کی وفات پر دلی رنج والم کا اظہار کرتا ہے اور آپ کے افراد خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور دست بدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا ہر طرح حامی و ناصر ہو۔آمین۔“ ۲- چوہدری عبدالسلام صاحب اختر ایم اے پرنسپل تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں نے لکھا : - مولانا عبدالمجید صاحب سالک جو ہمارے ملک کے کہنہ مشق صحافی اور صف اول کے ادیب و انشا پرداز تھے وفات پاچکے ہیں۔ان کی وفات پر ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم اور اخبار نویس حضرات تو بہر حال لکھیں گے اور لکھ رہے ہیں دوسرے لوگ بھی ان کے صدمے کو ویسے ہی محسوس کر رہے ہیں جیسے کہ ان کے خاندان کے افراد یا دیگر قلمکار ادب کسی طبقہ یا فرقہ کی اثاث نہیں اور نہ ہی کسی قوم تک محدود ہے۔سالک صاحب کی بذلہ سنجی اور طبیعت کی ایک بے پایاں بحر تھا۔جس سے ہر خاص و عام شاد کام تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے وہ ربوہ میں چار پانچ دفعہ تشریف لائے۔سب سے پہلی دفعہ ۱۹۴۸ء میں جب سیدنا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ربوہ میں پریس کانفرنس طلب فرمائی اور سابق پنجاب کے تقریباً تمام چنیدہ اخبار نویس یہاں آئے