تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 368 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 368

تاریخ احمدیت 368 جلد ۲۰ ۵۴ اس میں یقیناً انقلاب کا نام لیا جائے گا۔۱۹۴۷ء کے خونچکاں دور میں مولانا سالک نے اپنے اخبار انقلاب میں قادیان کے ۵۵ جانفروش احمدی نوجوانوں کے کوائف اور ان کی ملی خدمات کا متعدد بار ذکر کیا۔۷/نومبر ۱۹۴۸ء کو حضرت مصلح موعود کی دعوت پر دوسرے صحافیوں کے ساتھ آپ بھی ربوہ تشریف لائے اور حضور کی پریس کانفرنس میں شرکت کی۔۱۹۵۰ء میں آپ پاکستان کے مرکزی محکمہ اطلاعات سے منسلک ہو گئے اور تین سال تک کام کرتے رہے۔۱۸ نومبر ۱۹۵۲ء کو روزنامہ ”آفاق لاہور میں احراری علماء کے ہنگامہ تکفیر کے خلاف آپ کا ایک حقیقت افروز مقالہ شائع ہوا جس میں آپ نے بتایا کہ 'جب ( دینِ حق ) جیسے سادہ و آسان دین میں منطقیانہ موشگافیاں ہونے لگیں تو ایسے علماء پیدا ہونے لگے جنہوں نے اخوت اسلامی اور اتحاد ملی کو بالائے طاق رکھ کر تکفیر کی تیغ بے پناہ بے نیام کر لی اور پھر ان کی ضربوں سے کوئی مسلمان محفوظ نہ رہا۔“ اس تمہید کے بعد آپ نے آئمہ دین، اکابر امت، سرسید احمد خان ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دیو بند اور دیوبندی علماء اور زمانہ حال کے دیگر مسلمان سیاسی ، قومی اور مذہبی لیڈروں کے فتویٰ تکفیر کا نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا اور پھر تمام فرقوں کی تکفیر با ہمی کا اندوہناک منظر پیش کرنے کے بعد لکھا کہ : - اس ہنگامہ تکفیر کو ( دین حق ) سے کوئی ترقی نہیں۔اللہ اور رسول اور آئمہ دین اس سے کاملاً بری ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ ( دینِ حق ) کلمہ تو حید ہے جو تمام مسلمانوں کو ایک کر دیتا ہے۔جو شخص اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ لا الہ الالله محمدرسول الله (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدم اس کے رسول اور پیغمبر ہیں) وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔“ اپریل ۱۹۵۴ء میں فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت کی طرف سے انگریزی میں رپورٹ پیش کی گئی جس کا با محاورہ اردو ترجمہ مولانا سالک صاحب کے قلم کا رہین منت تھا۔زندگی کے آخری سالوں میں آپ نے متعدد تصانیف لکھیں مثلاً ”یاران کہن“ ”ذکر اقبال اور سرگزشت جس میں حضرت مسیح موعود، حضرت مصلح موعود اور جماعت احمدیہ کا عمدہ پیرا یہ میں ذکر کیا۔آپ نے ”ہندوستان میں اسلامی تمدن کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی جس پر یونیسکو نے آپ کو چار سو اسی ڈالر کی رقم بطور انعام دی۔علاوہ از میں حکومت پاکستان نے ان کی علمی وادبی