تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 367 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 367

تاریخ احمدیت 367 جلد ۲۰ بعض معززین بھی شریک ہوئے۔یہاں آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی۔جس کے صدر مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمد یہ منتخب کئے گئے۔66 اختلاف پیدا ہوا تو مرزا بشیر الدین محمود احمد نے صدارت سے استعفاء دے دیا اور علامہ اقبال ان کی جگہ عارضی طور پر صدر منتخب ہوئے لیکن مرزا صاحب کے علیحدہ ہو جانے سے ان کے احباب و مریدین نے جو کمیٹی کے اصلی کا رکن تھے کشمیر کمیٹی کے کام میں دلچسپی لینا ترک کر دیا اور یہاں کوئی اور کارکن تھے ہی نہیں لہذا علامہ نے بھی کمیٹی کی صدارت سے استعفاء دے دیا اور کمیٹی ہی کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔نیز لکھتے ہیں :- ” جب احرار نے احمدیوں کے خلاف بلاضرورت ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور کشمیر کی تحریک میں مخالف عناصر کی ہم مقصدی و ہمکاری کی وجہ سے جو قوت پیدا ہوئی تھی اس میں رخنے پڑ گئے تو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفاء دے دیا۔اور ڈاکٹر اقبال اس کے صدر مقرر ہوئے۔کمیٹی کے بعض ممبروں اور کارکنوں نے احمدیوں کی مخالفت محض اس لئے شروع کر دی کہ وہ احمدی ہیں یہ صورتِ حال مقاصد کشمیر کے اعتبار سے سخت نقصان دہ تھی۔چنانچہ ہم نے کشمیر کمیٹی کے ساتھ ہی ساتھ ایک کشمیر ایسوسی ایشن کی بنیا د رکھی جس میں سالک، مہر، سید حبیب، منشی محمد دین مشہور کشمیری مؤرخ) مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کے احمدی اور 66 غیر احمدی رفقا ء سب شامل تھے۔انقلاب کو یہ منفر د خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے خطبہ الہ آباد سے پہلے پاکستان کا مطالبہ کیا اور اس ضمن میں مرتضی حسن میکش کے مضامین شائع کئے اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کا موقف نہایت مدلل رنگ میں پیش کیا۔گو تحریک پاکستان کے دوران اس نے زیادہ تر یونینسٹ پارٹی کی ترجمانی کی تاہم ڈاکٹر عبد السلام صاحب خورشید کے یہ الفاظ حقیقت پر مبنی ہیں کہ اگر مؤرخ کو برعظیم کی سیاسی تاریخ کے دوران اس سوال کا جواب دینا ہو کہ مسلمانوں کو کانگرس سے الگ کرنے میں کس اخبار کا سب سے زیادہ دخل ہے تو