تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 366 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 366

تاریخ احمدیت ہے ان کی بزرگی کا خاص اثر ہے۔" 366 جلد ۲۰ مولانا سالک صاحب کو حضرت سیدنا مصلح موعود کی ذات بابرکات کے ساتھ ابتداء ہی سے خصوصی محبت تھی۔چنانچہ انہوں نے حضور کے سفر مصر و حجاز پر روانگی کے وقت ایک شاندار الوداعی نظم کہی جو اخبار بدر قادیان ۱۰ راکتو بر ۱۹۱۲ء صفحہ ۷ پر شائع ہوئی۔مولانا سالک صاحب یکم نومبر ۱۹۲۰ء کو مولانا ظفر علی خان کے روز نامہ زمیندار (لاہور) کے عملہ ادارت سے منسلک ہوئے اور اپنی خداداد قابلیت سے چیف ایڈیٹر بن گئے اور ۲۱ مارچ ۱۹۲۷ء تک اس کی ادارت کے فرائض بجا لاتے رہے۔۱۹۲۲ء میں ہندوؤں نے ملکانہ راجپوتوں میں شدھی کی ناپاک تحریک جاری کی تو مسلمانوں میں تنظیم اور انسداد شدھی کے لئے حرکت پیدا ہوئی اس دور میں جماعت احمدیہ کی شاندار خدمات دینیہ کو جہاں دوسرے روشن خیال مسلمانوں نے زبر دست خراج تحسین ادا کیا وہاں مولانا سالک بھی بہت متاثر ہوئے۔آپ خود فرماتے ہیں ”ملکا نہ راجپوتوں میں انسداد ارتداد اور تبلیغ دین حق ) کا کام شروع ہوا بریلوی ، دیوبندی ، شیعہ، احمدی ، لاہوری احمدی، میر نیرنگ کی جمعیۃ الاسلام کے مبلغ غرض ہر فرقے اور ہر جماعت کے کارکن آگرہ اور نواحی علاقوں میں پھیل گئے۔چاہئے تو یہ تھا کہ مل جل کر ( دین حق ) کی خدمت کرتے لیکن ان جماعتوں نے وہاں آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔صرف احمدی مبلغین تو کچھ کام کرتے تھے۔اور باقی تمام فرقوں کے لوگ یا آپس میں مصروف پریکار تھے یا احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے شائع کرتے تھے۔غرض ان لوگوں کی مال اندیشی اور نفسانیت نے انسداد ارتداد کو نا ممکن بنا دیا اور کفر کی مشین پوری قوت سے چلتی رہی۔۴۸ 66 مولانا سالک صاحب نے ۱۲ اپریل ۱۹۲۷ء کو مولانا غلام رسول صاحب مہر کے ساتھ مل کر روزنامہ انقلاب“ جاری کیا جو اکتوبر ۱۹۴۹ ء تک نکلتا رہا۔ادارت ”انقلاب“ کے زمانہ میں انہوں نے حضرت مصلح موعود کی قریباً ان تمام تحریکات کی پوری قوت سے حمایت کی جو حضور نے مسلمانانِ ہند کی ترقی و بہبود کے لئے جاری فرما ئیں۔آپ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور بعد ازاں کشمیر ایسوسی ایشن کے سرگرم ممبر تھے۔چنانچہ دونوں تنظیموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- کشمیر کے ان ہولناک حوادث سے ہندوستان بھر کے مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا۔لاہور ، دہلی اور دوسرے بڑے شہروں میں ڈوگرہ راج کے خلاف عظیم الشان جلسے منعقد ہوئے۔اس کے بعد شملہ میں مقتدر اور نمائندہ مسلمانوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں جموں اور کشمیر کے